29 مئی 1974ء کو طلبہ کا یہ قافلہ واپس ہونے لگا تو نشتر آباد سٹیشن (جو کہ چناب نگر سٹیشن سے پہلے آتا ہے) پر قادیانی سٹیشن ماسٹر نے چناب نگر کے قادیانی سٹیشن ماسٹر کو بتلایا کہ فلاں بوگی طلبہ کی ہے، چنانچہ خلافِ ضابطہ چناب نگر ریلوے سٹیشن پر گاڑی روک لی گئی، سیکڑوں مسلح افراد جس میں قادیانیوں کے قصر خلافت کے معتمدین، تعلیم الاسلام کالج کے طلباء، اساتذہ اور بعض قادیانی دکانداروں نے لاٹھیوں، سریوں، ہاکیوں، کلہاڑیوں اور برچھیوں کے ساتھ حملہ کر کے 30 نہتے طلبہ کو شدید زخمی کر دیا، اس واقعہ کا پورے ملک 30 مئی 1974ء کو لاہور اور دیگر شہروں میں ہڑتال ہوئی، 31 مئی 1974ء کو اس سانحے کی تحقیقات کیلئے صمدانی ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا، 3 جون 1974ء کو مجلس عمل کا پہلا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا، 9 جون 1974ء کو مجلس عمل کا کنوینئر لاہور میں مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو مقرر کیا گیا، 13 جون 1974ء کو وزیر اعظم نے مسئلہ قومی اسمبلی کے سپرد کیا، 16 جون 1974ء کو مجلس عمل 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد پیش ہوئی جس پر غور کیلئے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا، 5 اگست سے 23 اگست 1974ء تک مرزا ناصر پر قومی اسمبلی میں جرح ہوئی، 20 اگست 1974ء کو صمدانی ٹربیونل نے اپنی رپورٹ سانحہ ربوہ کے متعلق وزیر اعلیٰ کو پیش کی۔تحفظ ختم نبوت کا فیصل آباد میں اجلاس ہوا جس میں حضرت بنوریؒ کو امیر منتخب کیا 22 اگست 1974ء کو رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی گئی، 24 اگست 1974ء کو وزیر اعظم نے فیصلہ کیلئے 7 ستمبر کی تاریخ مقرر کی، 27، 28 اگست 1974ء کو لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح ہوئی، یکم ستمبر 1974ء کو لاہور بادشاہی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، 5، 6 ستمبر 1974ء کو اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی میں عمومی بحث کی اور مرزائیوں پر جرح کا خلاصہ پیش کیا۔گیا۔میں زبردست ردِعمل ہوا۔
اس ساری کارروائی میں قومی اسمبلی نے اڑھائی ماہ کے عرصے میں 28 اجلاس بلائے اور 96 گھنٹوں پر مشتمل نشستیں ہوئیں، تمام مسالک کی مذہبی و سیاسی قیادت نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس میں کردار ادا کیا، مولانا مفتی محمود اور ان کے رفقاء کار نے قادیانیوں کا لٹریچر جمع کیا، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے قادیانی کا مذہبی و سیاسی عزائم پر مبنی لٹریچر اکٹھا کیا، اس محنت میں قادیانیوں کی مذہبی حصے کی ترتیب و تدوین مفتی محمد تقی 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی میں دستور کی دفعہ 106 میں قادیانی و لاہوری گروپ کو اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور دفعہ 260 میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا، جس میں یہ طے کیا کہ ’’ہر فرد جو حضور صلی علیہ والہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں‘‘۔عثمانی (سابق جسٹس سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت) نے جبکہ سیاسی حصے کی مرکزی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے بل پیش کیا، ان کے بعد مفکر اسلام مولانا مفتی محمود قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹھے اور بل کی مکمل تائید کی اور اس اقدام پر وزیراعظم اور ارکان حزب اقتدار کو خراج تحسین پیش کیا، تقریبا ً پانچ بجے سپیکر قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹو نے آدھا گھنٹہ تقریر کی، اس کے بعد بل کی ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہوا، مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے 130 ووٹ آئے اور قادیانیوں کی حمایت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا، قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے یہ بل پاس کیا اور مرزائیوں کو ہمیشہ کیلئے غیر 7 ستمبر 1974 ء شام ساڑھے 7 بجے سینٹ کا اجلاس ہوا، مرکزی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے قومی اسمبلی کا منظور شدہ بل سینٹ میں پیش کیا، ایوان میں دوبارہ رائے شماری ہوئی، قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی سارے ووٹ مرزائیوں کے خلاف آئے۔مسلم اقلیت قرار دیا۔رات 8 بجے ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی کہ مرزائیوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے، یوں 7 ستمبر 1974ء کے سورج کے ڈوبنے کے کچھ لمحے بعد جعلی اور جھوٹی نبوت کا فتنہ بھی ڈوب گیا اور عقیدہ ختم نبوت کا ماہتاب آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان پر اپنی کرنیں بانٹ رہا ہے اور انشا اللہ بانٹتا ہی رہے گا۔صاحبزادہ فاروق علی نے قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی۔ترتیب مولانا سمیع الحق شہیدؒ نے کی۔

