تحرير عبدالفتاح عباسی
جیسا کہ آئندہ سال 2026،27 کا بجٹ آئندہ ماھ جون میں آنے والا ہے، اسی سلسلے میں سندھہ کے حاضر سروس اور پنشنرز کے جائز مطالبات اور تجاویز کو چارٹر آف ڈمانڈ کی صورت میں پیش کر رہے ہیں، امید ہے کہ وہ جائز مطالبات منظور کرکے سندھ کے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور 4 لاکھ پنشنرز کی بے چینی دور کی جائے گی۔ آئندہ بجٹ میں تمام سرکاری ملازمین اور خصوصاً پنشن میں اضافہ کیا جائے. بین الاقوامی حالات اور ایران امریکہ، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں ہمارے ملک پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 254 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 415 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ صرف اسی سال میں تیل کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تمام اخراجات میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس سلنڈر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے، ٹرانسپورٹ کے ساتھ تمام گھریلو اشیاء اور دوائوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، مناسب تنخواہوں اور ریٹائرمنٹ کے بغیر انسانی زندگی کا گذارا مشکل ہوگیا ہے۔ اس وقت حاضر سروس سفید پوش سرکاری ملازمین اور پنشنرز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کافی مالی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے آئندہ سال کے بجٹ میں مہنگائی کے حساب سے تنخواہ اور پنشن میں اس سال کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور پنشنرز اپنا گزارہ کر سکیں. پنشن اور تنخواہ اضافے میں فرق ختم کیا جائے۔ حکومت نے گذشتہ دور میں تنخواہوں کی پینشن میں منصفانہ انداز میں اضافہ کیا گیا تھا،
کیوں کہ مہنگائی تو ملازمین اور پنشنرز کو۔ یکساں متاثر کرتی ہے، لیکن دیکھا گیا ہے کہ حکومت نے 2021 سے 2025 تک تنخواہ کے مقابلے میں پینشن میں بہت کم اضافہ کیا ہے، جس میں خاص طور پر پنشنرز کو بڑا متاثر کیا گیا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا یہ سلسلہ 15 سالہ تقابلی جائزے کے اسٹیٹمنٹ سے جو فرق ظاہر ہوتا ہے جو 2011 سے 2025 تک محکمہ خزانہ کے جاری نوٹیفکیشن پر مبنی ہے۔ سال 2011 سے 2020 تک اوسط تنخواہ کی پنشن میں یکساں اضافہ کیا گیا تھا، لیکن 2021 سے 2025 کے دوران پنشنرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کچھ سالوں میں پنشن میں تنخواہ کا ایک تہائی، کچھ سالوں میں دو تہائی اور کچھ سالوں میں تنخواہ کے مقابلے میں پینشن میں آدھا برابر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ عمل پنشنرز کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ ہے۔ مہنگائی تو پنشنرز اور ملازمین کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہے تو تنخواہ اور پنشن میں اضافی میں فرق کیوں؟ کیا حکومت نے عام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینے کے لیے کوئی ڈسکاؤنٹ اسٹورز اور جنرل اسٹورز کھولے ہیں ؟ جہاں سے وہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو رعایتی سامان مل سکے، درحقیقت پنشن اور تنخواہ بڑھانے میں تفریق کو ختم کیا جائے اور یکسانیت مہنگائی کے حساب سے اضافہ کیا جائے، تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز بھی مہنگائی کا سامنا کر سکیں یہی انصاف کا تقاضہ ہے۔ سال 2022 میں کیا گیا پینشن میں 10 فیصد کا اضافہ دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے پینشنرز کو بھی دیا جائے، اپریل 2022 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر پینشن میں 10 فیصد اور بجٹ 2022.23 میں پنشن میں مزید 5 فیصد اضافہ کیا تھا، اس طرح اضافہ بڑھا کر 15 فیصد کیا گیا تھا۔ جس پر عمل کرکے وفاقی حکومت نے اپنے پینشنرز کو اور تین صوبوں پنجاب، بلوچستان کے پی کے نے بھی اپنی پنشنرز کی پینشن میں 15 فیصد اضافہ کردیا تھا مگر واحد صوبہ سندھ کے پنشنرز کو حکومت سندھ نے 2022 میں صرف 05 فیصد اضافہ دیا گیا تھا جو کہ انتہائی نا انصافی پر مبنی فیصلا تھا،
اس لیے اس سال کے بجٹ میں 2022 کا بقیہ 10 فیصد اضافہ کی الگ سے منظوری دی جائے اور نئے اضافے کے ساتھ ملا کر دیا جائے، میڈیکل الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، سندھ کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز 2010 سے میڈیکل الاؤنس وصول کر رہے ہیں جس میں دوبارہ 2015 میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، اس کے بعد 11 سال گزر چکے ہیں لیکن پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ، جبکہ ادویات کی قیمتوں میں 100 سے 300 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بزرگ پنشنرز کی زندگی دوائیوں کے سہارے سے گذرتی ہے۔ اس لیے درخواست ہے کہ اس سال کے بجٹ میں پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں کم سے کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ تاکہ پینشنرز پیرسنی ضعیف العمر میں اپنی زندگی بچاتے ہوئے مہنگی دوائیاں خرید کر اپنی زندگی کو محفوظ بنا سکیں، سندھ صوبے کے تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے مذکورہ جائز مطالبات کو آئندہ بجٹ برائے سال 2026.2027 میں منظور کیا جائے، سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ اور چیف سیکریٹری سندھ کو 6 لاکھ ملازمین کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہیں. سندھ کے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے. کنوینس الائونس، ہائوس رینٹ الائونس اور میڈیکل الائونس 2026 کے حساب سے دیا جائے، 30 فیصد ڈی آر اے 2026 کے حساب سے دیا جائے، چارٹر آف ڈیمانڈ مطابق سندھ کے ملازمین کے جائز مطابات مان کر ان تمام سرکاری ملازمین اور رٹائرڈ ملازمین کی ذھنی پریشانی کو دور کیا جائے، 12
مئی کو پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک اچھی خاصی سرکاری ملازمین اور رٹائرڈ ملازمین کی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین و اساتذہ و دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت کی طرز پر 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس، لیو انکیشمنٹ، پنشن، رول 17 اے، ریگولرائیزیشن ایکٹ کی بحالی کی جائے. اس تیز ترین بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سفید پوش سرکاری ملازمین اور رٹائرڈ ملازمین کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے، دو وقت کی روٹی کے لیے عوام شدید ذھنی پریشان حال ہے، ایک ملک پاکستان میں دو قانون سمجھ سے بالا تر بات ہے، جب پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے اساتذہ و دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، الایونسز، مراعتیں ، سہولیات دی جارہی ہیں تو پھر صوبہ سندھ کے ملازمین کا کیا قصور ہے؟، وقت کی تقاضا یہ ہے کہ صوبہ سندھ کے حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے عوامی ریلیف دینے والے اقدامات کی طرح سندھ کے چھ لاکھ سرکاری ملازمین اور چار لاکھ رٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے حساب سے بجٹ 2026_2027 میں اضافہ کیا جائے. اسی سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کو اپنے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی سخی سخاوت بھری خوبی کی طرح بجٹ میں عوامی سہولیات کا خیال رکھنا چاہیے. کیونکہ آخر کار الیکشن بھی ہونگے، ووٹرز میں سب سے زیادہ باشعور طبقہ یہی سرکاری ملازمین اور رٹائرڈ ملازمین ہی ہیں جو اپنا قیمتی ووٹ دینے آپ کو ہی آئیں گے.






