Site icon AFB News Agency

سعودی عرب کا دفاعی نظام مضبوط، حوثیوں کے میزائل حملوں کے مقابلے میں فضائی برتری برقرار

ریاض (اے ایف بی)یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں بیلسٹک میزائلز، ڈرونز، جدید فضائی نظاموں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ سعودی عرب جدید فضائی دفاعی نظام اور مضبوط فضائی قوت کے ذریعے اپنی اہم تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے 2025 میں دفاع پر 83.2 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جس کے باعث وہ دنیا میں آٹھویں اور مشرقِ وسطی میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

ادھر کنگز کالج لندن کے محقق نواف عبید کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام حوثیوں کے تقریبا 89 سے 90 فیصد میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض حملوں کا دفاعی نظام سے گزر جانا اس کی ناکامی نہیں کیونکہ سعودی عرب کا وسیع رقبہ، توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور اہم مقامات دفاع کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جدید فضائی قوت اور دفاعی نظام اسے حوثیوں کے میزائلز اور ڈرونز حملوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کرتے ہیں جبکہ بیک وقت مختلف نوعیت کے حملوں کو روکنا ایک بڑا دفاعی چیلنج ہے۔

Exit mobile version