مظفرآباد(اے ایف بی) پنشنرز ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کے زیر اہتمام مطالبات کے حق میں قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر پنشنرز نے بھرپور احتجاجی دھرنا دیا،احتجاج کے دوران بزرگوں نے ہاتھ میں بینرز بھی اٹھارکھے تھے جن پریہ مطالبات بیوہ و بیٹی کی پنشن بحالی،میڈیکل الاؤنس، پنشن میں 100 فیصد اضافہ، اردلی الاؤنس، 2022تین ماہ کے بقایا جات اور گروپ انشورنس کی ادائیگیاں فوری طور پر یقینی بنائی جائیں، شدید گرمی اور سخت دھوپ کے باوجود بزرگ پنشنرز گھنٹوں ڈٹے رہے اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کا مطالبہ کیا،دھرنے کی قیادت پنشنرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر راجہ ممتاز خان نے کی۔ جبکہ دھرنے سے راجہ ممتازخان،بشیر احمد ڈار، شیخ سراج منیر، قاضی صدیق، صوفی گوہرالرحمن، راجہ گلزار خان ایڈووکیٹ، شیخ جہانزیب، اشفاق طاہر، قاضی تنویر،ضیاء الدین گیلانی،حمید اعوان،مظفر حسین منہاس، راجہ نسیم خان اور راجہ شفیق نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ مہذب ممالک میں پنشنرز کو عزت و سہولیات دی جاتی ہیں مگر آزاد کشمیر میں عمر بھر ریاست کی خدمت کرنے والے بزرگوں کو سڑکوں پر ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ حکمرانوں کی بے حسی اور نااہلی نے پنشنرز کو فاقوں، مہنگائی اور ادویات کی قلت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ بزرگ پنشنرز اپنے جائز حقوق کیلئے دربدر پھرنے پر مجبور ہیں مگر حکومت خواب غفلت میں سوئی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عید کے فوراً بعد آزاد کشمیر کے ہر ضلع میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور اسمبلی کے مین گیٹ پر دوبارہ دھرنا دیا جائے گا۔مقررین نے کہاکہ حکومت نے اگر اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو پنشنرز پورے آزاد کشمیر کو جام کرنے کی کال دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔






