برسات سے پہلے نالوں کی صفائی ناگزیر

راولپنڈی شہر کو ہر سال برسات کے موسم میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرتا ہے۔ شدید بارشوں کے دوران نالہ لئی اور شہر کے مختلف علاقوں سے گزرنے والے برساتی نالے خطرناک شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ان‌ برساتی نالوں کی اگر بروقت صفائی نہ کی جائے تو پانی آبادیوں اور بازاروں میں داخل ہو کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے۔جان کالونی، ٹینچ بھاٹہ اور غازی آباد سے گزرنے والے نالوں کی حالت بھی بہت تشویشناک رہتی ہے۔ جان کالونی ۔ غازی آباد اور ربانی ٹاؤن کے رہائشی ہر بارش میں خوفزدہ رہتے ہیں کیونکہ گندا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور لوگوں کا معمولاتِ زندگی متاثر ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال نالہ لئی کے اطراف بھی دیکھی جاتی ہے جہاں ذرا سی غفلت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ سالوں میں جان کالونی۔ احمد آباد۔ ربانی ٹاؤن کے علاقوں میں برسات کے دنوں میں اموات بھی ہویں۔ دوسری طرف راجہ بازار، جو راولپنڈی کا اہم تجارتی مرکز ہے، بارشوں کے دوران شدید متاثر ہوتا ہے۔ دکانوں میں پانی داخل ہونے سے لاکھوں روپے کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔ تاجر برادری کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ کئی دن کاروبار بند رکھنے کی مشکل بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔

انتظامیہ کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ابھی وقت ہے۔ مون سون کی بارشوں سے پہلے نالوں کی مکمل صفائی، تجاوزات کا خاتمہ اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایک بار پھر شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔اسی طرح کچھ لوگوں نے ان نالوں کےساتھ تجاوزات کر کے گھر بنانے ہوے ہیں۔ جو اس تباہی میں بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح شہر اور کینٹ میں بھینسوں کے باڑے بھی اس تباہی کا موجب بنتے ہیں۔ برسات کے بعد بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا رہتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف بیماریاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح برسات کے موسم میں خاص طور پر بجلی کے کھمبے، لٹکتی تاریں اور خراب برقی نظام بھی شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر سال بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے افسوسناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

عوام کو چاہیے کہ بارش کے دوران یا اس کے فوراً بعد بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور گری ہوئی تاروں سے دور رہیں۔ پانی میں کھڑے ہو کر کسی برقی چیز کو ہاتھ لگانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ والدین اپنی بچوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔دوسری جانب واپڈا اور متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مون سون سے پہلے حفاظتی اقدامات مکمل کریں۔ خستہ حال تاروں کی مرمت، کمزور کھمبوں کی تبدیلی اور ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت ضروری ہے۔ جن علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا خطرہ ہو وہاں خصوصی نگرانی کی جائے تاکہ کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچا جا سکے۔راولپنڈی شہر کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور شہریوں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ راولپنڈی کو بارشوں کے بعد آنے والی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس ماحول میں شہریوں کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ حکومتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ تاکہ ایک صحت مند معاشرے کا قیام ہو سکے۔