اسلام آباد (اے ایف بی) اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں نامور وکیل و انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو جیل ٹرائل کے بعد دس دس سال قید کی سزا سنا دی۔اطلاعات کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سڑکوں سے بیریئرز ہٹانے اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مختلف دفعات کے تحت یہ سزائیں دی ہیں، جب کہ عدالتی فیصلے میں دونوں وکلاء رہنماؤں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جیل ٹرائل کے دوران میڈیا اور عام افراد کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس پر قانونی حلقوں اور فریقین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے
، قانونی ماہرین اور کورٹ رپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اس جیل ٹرائل کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلاء کی جانب سے اے ٹی سی کے مختلف فیصلوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ دفاعی وکلاء کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 10 A کے تحت شفاف ٹرائل کے بنیادی آئینی حق کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ عدائتی کارروائی کو منصفانہ بنایا جا سکے، تاہم قانونی چارہ جوئی کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کارروائی پر کوئی حکمِ امتناعی جاری نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ میں بھی متعلقہ اپیلیں بروقت سماعت کیلئے مقرر نہیں ہو سکیں، اے ٹی سی کے فیصلے کے بعد شفاف ٹرائل کے حق کیلئے دائر تمام اپیلیں اب غیر مؤثر ہوگئیں۔

