تحریر مشتاق احمد ڈار
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی مقدس داستان صرف تاریخِ انسانیت کا ایک عظیم واقعہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسا ابدی پیغام ہے جو ہر دور، ہر نسل اور ہر معاشرے کو ایمان، وفاداری، قربانی، اطاعت، صبر اور کردار کی اصل حقیقت سمجھاتا ہے۔
یہ صرف ایک باپ اور بیٹے کی کہانی نہیں، بلکہ بندگیٔ کامل کا وہ روشن باب ہے جس نے انسان کو خواہشات کی غلامی سے نکال کر اللہ کی اطاعت کے مقامِ بلند تک پہنچا دیا۔
یہ وہ داستان ہے جس نے زمین کو آسمان سے جوڑا، قربانی کو عبادت بنایا، اور انسانیت کو یہ شعور دیا کہ عظمت دولت، شہرت اور طاقت میں نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جھک جانے میں ہے۔
آج امتِ مسلمہ ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ظاہری ترقی تو بہت ہے مگر روحانی سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔
علم موجود ہے مگر حکمت ناپید ہے،
وسائل موجود ہیں مگر وحدت نہیں،
آوازیں بہت ہیں مگر سچائی کم ہے،
رابطے بے شمار ہیں مگر تعلق کمزور ہیں،
اور عبادات تو موجود ہیں مگر روحِ بندگی ماند پڑتی جا رہی ہے۔
آج کا مسلمان نوجوان ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں انسان کی قیمت اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے فالوورز، لباس، دولت، شہرت اور نمود و نمائش سے لگائی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا نے وقتی شہرت کو کامیابی اور خواہشات کو ضرورت بنا دیا ہے۔
دل بے سکون، نظریات منتشر، مقاصد دھندلے، اور روحیں اندر سے خالی ہوتی جا رہی ہیں۔
ایسے تاریک ماحول میں اگر کوئی کردار آج بھی روشنی کے مینار کی طرح کھڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا کردار ہے۔
حضرت ابراہیمؑ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے پوری انسانیت کو “لا” کہنا سکھایا۔
*باطل کے سامنے “لا”،*
*شرک کے سامنے “لا”،*
*ظلم کے سامنے “لا”،*
*خواہشات کے سامنے “لا”،*
اور ہر اُس طاقت کے سامنے “لا” جو انسان کو اللہ سے دور کرے۔
انہوں نے صرف پتھر کے بت نہیں توڑے تھے بلکہ انسان کو یہ شعور دیا تھا کہ جب تک وہ اپنے دل کے جھوٹے خداؤں کو نہیں توڑے گا تب تک وہ حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکتا۔
آج کے بت بدل چکے ہیں۔
اب بت مندروں میں کم اور دلوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔
*شہرت کا بت،*
*دولت کا بت،*
*نفس کا بت،*
*فیشن کا بت،*
*اقتدار کا بت،*
*خواہشات کا بت،*
اور “ *لوگ کیا کہیں گے” کا بت* ۔
حضرت ابراہیمؑ آج بھی امتِ مسلمہ کو پکار رہے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نفس کے بت نہ توڑے تو تم کبھی عزت، سکون اور عظمت حاصل نہیں کر سکو گے۔
کیونکہ ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ دل سے ہر جھوٹے سہارے کو توڑ دینے کا نام ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی آزمائشوں سے عبارت تھی۔
*کبھی انہیں آگ میں ڈالا گیا* ،
*کبھی وطن چھوڑنے کا حکم ملا* ،
*کبھی تنہائی دی گئی* ،
*کبھی برسوں اولاد سے محرومی کا امتحان آیا* ،
اور پھر بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرمانبردار بیٹے کو *اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دے دیا گیا۔*
مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو آزمائش میں ڈالا، وہ ہر امتحان میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے ہر آزمائش میں اپنی خواہش پر اللہ کے حکم کو ترجیح دی، ہر تکلیف میں صبر کیا، ہر قربانی میں وفاداری دکھائی، اور ہر مشکل میں ایمان پر ثابت قدم رہے۔
اسی کامل اطاعت، بے مثال وفاداری اور غیر متزلزل ایمان کی وجہ سے اللہ رب العزت نے انہیں “خلیل اللہ” یعنی “اللہ کا دوست” ہونے کا عظیم اعزاز عطا فرمایا۔
یہ مقام صرف عبادت کی کثرت سے نہیں ملا تھا، بلکہ اس لیے ملا کہ ابراہیمؑ نے اپنی پوری زندگی اللہ کے سپرد کر دی تھی۔
انہوں نے ثابت کیا کہ جو انسان اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، اللہ اُسے زمانوں کے لیے عزت و عظمت عطا کر دیتا ہے۔
پھر تاریخ کا وہ عظیم ترین منظر سامنے آتا ہے جہاں ایک باپ اپنی سب سے محبوب متاع اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔
ایک ایسا باپ جسے بڑھاپے میں ایک فرمانبردار بیٹا عطا ہوا، اور پھر اُسی بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
یہ امتحان صرف محبت کا نہیں تھا بلکہ بندگی کی معراج تھا۔
لیکن اس واقعے کا سب سے عظیم پہلو حضرت اسماعیلؑ کا کردار ہے۔
آج کا نوجوان معمولی ناکامی پر ٹوٹ جاتا ہے، خواہش پوری نہ ہو تو بے چین ہو جاتا ہے، تنقید سے مایوس ہو جاتا ہے، اور دنیاوی نقصان کو زندگی کا خاتمہ سمجھ لیتا ہے۔
مگر حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی کو خواہشات کی غلامی نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا۔
جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ انہیں اللہ کی طرف سے قربانی کا حکم ملا ہے تو حضرت اسماعیلؑ نے نہ انکار کیا، نہ خوف ظاہر کیا، نہ سوال اٹھایا، بلکہ ادب، یقین اور ایمان کے ساتھ عرض کیا:
“اے میرے والد! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایمان کی بلند ترین تفسیر تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک نوجوان نے اپنی جان سے زیادہ اللہ کی رضا کو اہم سمجھا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں اطاعت نے خواہشات کو شکست دے دی اور ایمان نے دنیا کی ہر محبت پر غلبہ حاصل کر لیا۔
پھر وہ منظر آیا جسے دیکھ کر زمین بھی لرز گئی اور آسمان بھی خاموش ہو گیا۔
ایک باپ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے لٹا رہا ہے،
اور ایک بیٹا بغیر کسی مزاحمت کے اپنے رب کے حکم کے سامنے جھک رہا ہے۔
یہ صرف قربانی نہیں تھی بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے یہ اعلان تھا کہ اللہ کے راستے میں دی جانے والی کوئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی ایسی کامل اطاعت، وفاداری اور عشق کا مظاہرہ کیا کہ اللہ رب العزت نے ان کے اس عمل کو قیامت تک آنے والی امت کے لیے عبادت بنا دیا۔
اسی لیے آج دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتے ہیں۔
یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہوتی ہے کہ:
“اے اللہ!
جیسے ابراہیمؑ نے سب کچھ تیرے لیے قربان کر دیا،
ہم بھی اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنے غرور، اپنی نافرمانیوں اور اپنے نفس کو تیرے حضور قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں،
یہ اپنے اندر کے تکبر کو ذبح کرنے کا نام ہے۔
یہ حسد، نفرت، لالچ، غرور، بے حیائی اور گناہوں کو کاٹنے کا نام ہے۔
یہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دینے کا نام ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جسے آج امتِ مسلمہ نے بھلا دیا ہے۔
آج ہم نے ترقی تو حاصل کر لی مگر تربیت کھو دی۔
تعلیم حاصل کر لی مگر کردار گنوا دیا۔
اونچی عمارتیں بنا لیں مگر دل ویران کر لیے۔
ٹیکنالوجی حاصل کر لی مگر انسانیت کھو دی۔
علم بڑھ گیا مگر خشیت کم ہو گئی۔
ایسے دور میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی زندگیاں امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اصل طاقت ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ایمان کی ہوتی ہے۔
اصل کامیابی دنیا جیتنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو جیتنے میں ہے۔
اصل عزت دولت، شہرت اور اقتدار میں نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جھک جانے میں ہے۔
ذوالحج کے مبارک ایام اسی عظیم فلسفۂ قربانی کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ عبادت، ذکر، توبہ، تکبیر، قربانی اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے دن ہیں۔
یہ دن امتِ مسلمہ کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے لیے جھک جائے تو اللہ اسے زمانوں کے لیے سربلند کر دیتا ہے۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامات،
سکھایا کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟
یہ شعر صرف ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ایک سوال ہے۔
آخر وہ کون سی تربیت تھی جس نے ایک نوجوان کو قربانی کے لیے مسکراتے ہوئے تیار کر دیا؟
وہ تربیتِ ابراہیمی تھی۔
وہ گھر ایسا تھا جہاں اولاد کو صرف دنیا کمانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے جینا سکھایا جاتا تھا۔
جہاں ادب نصاب تھا،
اطاعت کردار تھی،
حیا زینت تھی،
اور قربانی زندگی کا مقصد تھی۔
آج اگر امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی نسلوں کو ابراہیمی تربیت دینا ہوگی۔
نوجوانوں کو اسماعیلی اطاعت سکھانی ہوگی۔
انہیں یہ بتانا ہوگا کہ قومیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، قربانی، ایمان، وفاداری، عدل اور سچائی سے بنتی ہیں۔
دنیا ہمیشہ طاقتور لوگوں کو یاد نہیں رکھتی،
دنیا اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو حق پر کھڑے رہے۔
حضرت ابراہیمؑ آگ میں ڈالے گئے مگر جھکے نہیں۔
حضرت اسماعیلؑ قربانی کے لیے لٹ گئے مگر ڈرے نہیں۔
اور یہی وہ کردار ہیں جو انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
آج بھی وقت امتِ مسلمہ کو پکار رہا ہے:
اگر عزت چاہتے ہو تو اللہ سے تعلق جوڑو۔
اگر سکون چاہتے ہو تو اپنے اندر کے بت توڑو۔
اگر قیادت چاہتے ہو تو ابراہیمؑ کی طرح حق پر ڈٹ جاؤ۔
اگر کامیابی چاہتے ہو تو اسماعیلؑ کی طرح اطاعت اختیار کرو۔
اگر دنیا و آخرت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو قربانی، صبر، وفاداری اور ایمان کو اپنی پہچان بنا لو۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے:
اللہ کے راستے میں جھکنے والے کبھی مٹتے نہیں،
بلکہ قیامت تک دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔






