Site icon AFB News Agency

حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1514 ارب روپے قرض لیا

اسلام آباد(اے ایف بی)حکومت نے رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، جولائی سے ستمبر کے دوران مجموعی طور پر 1514 ارب روپے قرض حاصل کیا، جبکہ صرف ستمبر 2026 میں 1037 ارب روپے قرض لیا گیا۔ وزارت اقتصادی امور کی دستاویزات کے مطابق ستمبر 2025 کے مقابلے میں ستمبر 2026 کے دوران تقریبا 913 ارب روپے زیادہ قرض حاصل کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق ستمبر کے دوران حکومت نے 3 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے، جن میں سے 1.75 ارب ڈالر کے بانڈز پر شرح منافع 7.5 فیصد جبکہ باقی 1.25 ارب ڈالر کے بانڈز پر شرح منافع 7.9 فیصد ہے۔ ان بانڈز کی مدت 2036 میں مکمل ہوگی۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق 3 ارب ڈالر کے بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم بجٹ سپورٹ کے لیے استعمال کی جا سکے گی، جبکہ اس کی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی وزارت خزانہ ہے۔

مقامی کرنسی میں تبدیل کرنے پر اس رقم کی مالیت تقریبا 818 ارب روپے بنتی ہے۔ بانڈز کے علاوہ حکومت نے نان پراجیکٹ فنڈنگ، جس میں بجٹ سپورٹ اور مختصر مدت کے قرضے شامل ہیں، کی مد میں 17 ارب روپے قرض حاصل کیا۔ دستاویزات کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران حکومت کو مجموعی طور پر 5 ارب 44 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے اور گرانٹس موصول ہوئے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موصول ہونے والے ایک ارب 81 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں یہ رقم 3 ارب 63 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔ حکومت نے پہلی سہ ماہی کے دوران عالمی کمرشل بینک سے 30 کروڑ ڈالر کی میڈیم ٹرم قرض سہولت بھی حاصل کی۔ وزارت اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ اس عرصے میں 94 کروڑ 27 لاکھ ڈالر مالیت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔

Exit mobile version