پشاور (اے ایف بی) سانحہ پشاور دیر کالونی کے بعد خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے معائنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس دوران کئی اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال پائی گئیں۔محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنیوالے خستہ حال اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے، خستہ حال اسکولوں کے معائنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔تین دن قبل پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 32 بچے اور 2 خاتون ٹیچرز جاں بحق جبکہ 40 سے زائد بچے زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
محکمہ تعلیم کے مطابق بونیر کے بدال سرکاری سکول کے 6 میں سے 4 کلاس رومز اور چارسدہ کے 3 سرکاری اسکولوں کے 20 میں سے 15 کلاس رومز کو خستہ حال قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ لوئر دیر میں لڑکوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں ناقابل استعمال ہیں، کرک کے بمی بانڈہ سرکاری اسکول کے دونوں کلاس رومز ، لکی مروت کے 2 سرکاری اسکولوں کے 5 میں سے 4 ، مردان کے 2 سرکاری اسکولوں کے 15 میں سے 4 ، ڈیرہ اسماعیل خان کے 2 سرکاری اسکولوں کے تمام 25 کلاس رومز اورہری پور کے لڑکیوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں مکمل خستہ حال قرار دے دی گئی ہیں۔

