Site icon AFB News Agency

مقبوضہ کشمیر میں بجلی کا بحران ،لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ روزانہ آٹھ گھنٹے سے تجاوز کر گیا

سری نگر ( اے ایف بی) مقبوضہ کشمیر میں سردیوں کی امد کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگیا ہیغیر اعلانیہ اور اعلانیہ بجلی طویل کی لوڈ شیڈنگ نے ایک بار پھر عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، جو کہ صورتحال کی سنگین عکاسی کرتا ہے۔جموں وکشمیرمیں درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ہی بجلی کی غیر اعلانیہ اور اعلانیہ بندش شروع ہو گئی ہے جس سے کشمیری عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے 17اکتوبر سے نافذ نئے شیڈول میں کئی علاقوں کے لیے روزانہ آٹھ گھنٹے تک بجلی کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ دیگر فیڈرز پر چھ یا تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوگی۔

شیڈول کے مطابق65فیصد سے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر روزانہ آٹھ گھنٹے بجلی بند رہے گی۔ 40.5سے 65فیصد نقصانات والے فیڈرز کے لیے چھ گھنٹے کی بندش مقررکی گئی ہے۔ اسی طرح 15سے 40.5 فیصد نقصانات والے فیڈرز پر تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوگی۔ کم نقصانات والے فیڈرز پر بھی 30منٹ کی بندش ہوگی۔ یہ صورتحال یکم ستمبر سے بجلی کے نئے نرخوں کے نفاذ کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن(جے ای آر سی) نے 31 مارچ 2027 تک بجلی کے نرخوں میں اوسطا 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی۔ یوں عوام کو زیادہ بلوں اور کم بجلی کی دوہری اذیت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔بجلی کی مسلسل فراہمی کی ضرورت صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں۔ دکانیں، ورکشاپس، ہوٹل، ریستوران، چھوٹے صنعتی یونٹس اور دیگر کاروباری ادارے بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ جن چھوٹے کاروباروں کے پاس جنریٹر خریدنے کی استطاعت نہیں، انہیں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کام کے اوقات میں کمی، پیداوار میں تنزلی اور اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ یہ بحران بجلی کی بڑھتی ہوئی کھپت اور پیداواری صلاحیت میں محدود اضافے کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے

۔ڈائجسٹ آف اسٹیٹسٹکس 2024-25 کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 2019-20سے 2024-25تک 1,372.40میگاواٹ پر برقرار رہی۔ اس سے قبل 2018-19میں یہ صلاحیت 1,414.17میگاواٹ تھی۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چھ سال کے دوران پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں پن بجلی پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔ تاہم یہ علاقہ اب بھی بھارت کے زیر کنٹرول بجلی گھروں سے خریدی گئی بجلی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو زیادہ اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔بجلی کے مجموعی تکنیکی اور تجارتی ترسیلی نقصانات بھی عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہیں۔ شدید سردی کے آغاز پر کشمیری عوام کو طویل لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں دونوں کا سامنا ہے۔

Exit mobile version