میاں مقصود ایک چراغ جو بجھ گیا


تحریر: خالد عمران خالد
*صدر مساجد و مدارس*،
جماعت اسلامی پنجاب شمالی

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنماو علماء و مشائخ رابطہ کونسل پاکستان کے مرکزی صدر، *میاں مقصود احمد* اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ دینی و سماجی حلقوں کے لیے ایک سانحہ سے کم نہیں ہے۔
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، جن کی دوستی باعثِ فخر ہوتی ہے، جن کی جدائی پر دل مرثیہ خواں ہو جاتا ہے، اور جن کی ناراضگی بھی صدمہ بن جاتی ہے۔ میاں مقصود احمد بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے۔
*میرا ان سے پہلا تعارف* 1998ء میں راولپنڈی میں الاکرام بلڈنگ کے سامنے ممبرسازی کیمپ میں ہوا۔ ان کا ولولہ انگیز خطاب آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ وہ کارکنان کو تلقین کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
“مساجد میں جائیں، گھروں میں جائیں، لوگوں کے درمیان بیٹھیں اور انہیں جماعت اسلامی سے جوڑیں۔ اپنے حصے کا کام کریں اور چراغ جلائیں۔”
زمانۂ طالب علمی میں منصورہ میں ان سے متعدد ملاقاتیں رہیں۔
بعد ازاں جب وہ جماعت اسلامی پنجاب کے اہم ذمہ داران میں شامل ہوئے تو انہوں نے صوبے کے طول و عرض میں سفر کیا، کارکنان سے رابطے مضبوط کیے اور تنظیم کو فعال بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب حافظ محمد ادریس کے ساتھ ان کی رفاقت تحریک کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی۔
امیرِ صوبہ بننے کے بعد بھی ان کا کارکنان سے تعلق محبت، شفقت اور خلوص پر مبنی رہا۔ بعد ازاں جب وہ امیرجماعت اسلامی ضلع لاہور جیسے بڑے ضلع کے امیر بنے تو لٹن روڈ پر واقع ان کا دفتر ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا تھا۔ انہوں نے ہر سطح پر جماعت اور تحریک کو مقدم رکھا اور عہدے کو کبھی ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں بنایا۔
ان کی قیادت میں الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت لاہور میں ثریا عظیم ہسپتال جیسے فلاحی منصوبوں کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار قابلِ تحسین اور مثالی تھا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی ہدایت پر انہوں نے علماء و مشائخ کو جماعت اسلامی کے قریب لانے کی ایک مشکل مگر اہم ذمہ داری سنبھالی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے ملک بھر میں بڑے بڑے علماء و مشائخ کنونشن منعقد کیے۔ ملک کے طول وعرض کےدورےکئےخاص طور مکھڈ شریف، چورہ شریف، بھیرہ شریف، بری امام، گولڑہ شریف، نیریاں شریف بنی حافظ شریف ۔ فیض پور شریف ۔کیاں شریف کھڑی شریف سمیت آزاد کشمیر سے لے کر کراچی تک انہوں نے علماء و مشائخ سے رابطے استوار کیے
پیرمعین الدین محبوب کوریجہ (کوٹ مٹھن شریف) پیرغلام رسول اویسی (جماعت اویسیہ ) پیرزادہ برھان الدین عثمانی(خانقاہ عثمانیہ لاہور) پنجاب شمالی میں علامہ عبدالرحیم بابر صدر پنجاب اور راقم (مفتی خالدعمران خالد)ناظم اعلی اور کشمیرمیں قاضی شاہدحمید ایڈووکیٹ ۔ پنجاب سنٹرل میں حافظ نویدزبیری پنجاب جنوبی حافظ اسلم ۔سندھ میں مجاہد چنااور خیبرپختون خواہ میں مولاناعنائیت اللہ اوردیگراحباب کےہمراہ پیران حضرات تک دعوت دین غلبہ اسلام کاپیغام پہنچایا سندھ کے جماعت سرہندی کےسربرہ پیرمحموداحمد سرہندی اپنے مریدوں کےساتھ جماعت اسلامی کاحصہ بنے اورایک بڑی تعداد پیران عظام تک جماعت کا پیغام پہنچایا۔
یہ انہی کی محنت کا نتیجہ تھا کہ ایک منظم پلیٹ فارم وجود میں آیا اور وہ اس کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں تنظیمی تبدیلیوں کے تحت انہیں جمعیت اتحاد العلماء والمشائخ پاکستان کا سینئر نائب صدر مقرر کیا گیا، جسے انہوں نے اطاعتِ امیر کے جذبے کے ساتھ قبول کیا۔
میاں مقصود احمد کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی مہمان نوازی تھی۔ ان کا دسترخوان ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا تھا۔ کراچی سے کشمیر تک کے مہمان ان کے ہاں قیام کرتے اور وہ حضرت ابراہیمؑ کی سنتِ مہمان نوازی پر عمل پیرا نظر آتے تھے۔
قرآنِ مجید سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ دروسِ قرآن میں وہ قرآن و حدیث اور اسوۂ صحابہ کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتے۔ کشمیری مجاہدین اور مہاجرین کے ساتھ ان کی خصوصی محبت تھی اور ان کے اجتماعات میں ان کا درس بڑی دلچسپی سے سنا جاتا تھا۔
وہ کارکنان کے حقیقی خیرخواہ تھے۔ ہر کارکن کو یہ احساس ہوتا تھا کہ میاں صاحب اس کے اپنے ہیں۔ ان کا ایک جملہ ہمیشہ یاد رہے گا:
“اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر جماعت ہماری اپنی ہے۔ اس کے لیے فکر مند ہونا ہماری سعادت ہے۔”
اسی طرح وہ کہا کرتے تھے:
“اپنے حصے کا چراغ جلاؤ، اندھیروں سے کبھی سمجھوتہ نہ کرو۔”
ان کی زندگی خدمت، اخلاص اور تعلق باللہ کا حسین امتزاج تھی۔ وہ کارکنان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے اور حتیٰ المقدور ان کے حل کے لیے کوشاں رہتے تھے۔
ان کے انتقال کے موقع پر منصورہ لاہور میں ایک بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت سمیت ملک بھر سے کارکنان نے شرکت کی اور اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
میاں مقصود احمد کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ان کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین