بین الاقوامی

حوثی ملیشیا کو عالمی دہشت گرد گروہ قرار دیا جائے، جی سی سی وزرائے خارجہ کا مطالبہ

منامہ۔(اے ایف بی):خلیج تعاون کونسل کی وزارتی کونسل نے میں حوثی ملیشیا کو دہشت گرد گروہ قرار دینے اور اس کے ساتھ اسی طرح نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے جیسے بین الاقوامی نظام ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو سکیورٹی، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق جی سی سی کی وزارتی کونسل نے گزشتہ روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں 168 ویں اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں ایسی معاونت کو بھی روکنے پر زور دیا جو حوثی ملیشیا کو میزائل اور ڈرونز کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزارتی کونسل کے 168 ویں اجلاس میں شرکت کی جو بحرینی وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزارتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی۔ ان حملوں میں حرمین شریفین اور قریبی علاقوں کے ساتھ ایئرپورٹس اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ مشترکہ بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ رکن ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے منسلک ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر ہونے والا حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

وزارتی کونسل نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق جی سی سی کے رکن ممالک کے انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے اعادہ کیا۔ بیان میں یمن، حوثی بغاوت اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار دادوں پر عمل درآمد پر بھی زور دیا گیا۔ وزارتی کونسل نے کہا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری ان قراردادوں کے مطابق حوثیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کے حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ سلامتی کونسل اور اس کے مستقل ارکان بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔بیان میں 15 اکتوبر 2026 کوسلامتی کونسل کے صدارتی بیان کا خیر مقدم کیا گیا جس میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی مذمت کی گئی ہے۔ خلیجی ممالک اور اردن پر ایران کے براہ راست یا اس کے اتحادیوں کے ذریعے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا۔ سمندری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں آزاد و محفوظ جہاز رانی کو عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔ مشترکہ بیان میں وزارتی کونسل نے یمن کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت پر زور دیا۔

مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے یمن کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے اچھی ہمسائیگی کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات، سفارتی کوششیں بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا جو اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہو۔ وزارتی کونسل نے اردن اور جی سی سیممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی۔ مشترکہ بیان میں تمام حملوں، اشتعال انگیزیوں اور دھمکیوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ جی سی سی کی وزارتی کونسل نے بحری سلامتی اور جہازرانی کی آزادی کی بحالی پر بھی زور دیا۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights