تحریر: خالد قریشی
بیجنگ میں ہونے والی چین اور امریکہ کی اعلیٰ قیادت کی حالیہ ملاقات عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا اس وقت جن پیچیدہ حالات سے گزر رہی ہے، ان میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، ایران جنگ، ایشیا میں طاقت کا توازن اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ ایسے وقت میں یہ ملاقات نہ صرف دو بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کا امتحان ہے بلکہ عالمی امن کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری صورتحال اس ملاقات کا سب سے حساس پہلو ہے۔ ایران اور اس کے گردونواح میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر چین اور امریکہ اس معاملے پر کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔معاشی لحاظ سے یہ ملاقات عالمی معیشت کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری نہ صرف عالمی مارکیٹ کو مستحکم کرے گی بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی اس کے مثبت اثرات ملیں گے۔ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون عالمی ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔
اب اگر اس وسیع تناظر میں پاکستان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ بین الاقوامی تنازعات میں مذاکرات اور امن کے حل کی حمایت کی ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے متعدد مواقع پر خطے میں امن، اقتصادی تعاون اور سفارتی تعلقات کی بہتری پر زور دیا ہے۔ ان کی حکومت نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ اسی طرح پاکستان نے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط رکھتے ہوئے عالمی سطح پر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب پاکستان کی عسکری قیادت بھی خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ Syed Asim Munir کی قیادت میں پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی خطے میں استحکام اور دفاعی توازن کو برقرار رکھنے پر مرکوز رہی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدی استحکام کے حوالے سے۔
پاکستان کی قیادت اور ادارے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چین اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کے درمیان بہتر تعلقات نہ صرف عالمی امن کے لیے ضروری ہیں بلکہ خطے کے چھوٹے اور درمیانے ممالک کے لیے بھی معاشی اور سیاسی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے ایسے مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے جو عالمی کشیدگی کو کم کریں اور ترقی کے نئے راستے کھولیں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر چین اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا اثر پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑے گا۔ تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کامیابی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات گہرے ہیں اور انہیں فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ لیکن سفارتی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلسل مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو بالآخر استحکام کی طرف لے جاتا ہےآخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین اور امریکہ کی یہ ملاقات ایے نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں فریق سنجیدگی، برداشت اور عملی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو دنیا ایک نسبتاً پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف جا سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ پیش رفت امید کی ایک نئی کرن ہے، جو خطے میں ترقی، تعاون اور امن کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔






