تعلیم میں سرمایہ کاری قومی ضرورت
تحریر؛ تنویر اعوان
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ جن معاشروں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا، انہوں نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کیں۔ اس کے برعکس وہ قومیں جو تعلیم کو نظر انداز کرتی رہیں، وہ معاشی، سماجی اور سائنسی میدانوں میں پیچھے رہ گئیں۔ اسی لیے تعلیم پر خرچ کو محض ایک مالی بوجھ نہیں بلکہ مستقبل میں کی جانے والی سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل سے زیادہ اس کے تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد ہوتے ہیں۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ شہری نہ صرف اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، ماہرِ معیشت اور دیگر شعبوں کے ماہرین سب ایک مضبوط تعلیمی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کے شعبے کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ بہت سے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی پائی جاتی ہے اور بعض علاقوں میں اسکولوں تک رسائی بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور جدید تعلیمی طریقوں کو اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔ ان مسائل کا حل مستقل اور مؤثر سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں۔
تعلیم میں سرمایہ کاری کا مطلب صرف نئے اسکول اور کالج تعمیر کرنا نہیں۔ اس میں اساتذہ کی بہتر تربیت، جدید لیبارٹریوں کا قیام، لائبریریوں کی فراہمی، ڈیجیٹل سہولیات، تحقیق کے مواقع اور طلبہ کے لیے مناسب تعلیمی ماحول پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی تعلیم کا اہم حصہ بن چکی ہے، اس لیے طلبہ کو جدید علوم اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پر سرمایہ کاری بھی ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دنیا تیزی سے سائنس، مصنوعی ذہانت، طب، زراعت اور انجینئرنگ کے شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کے مواقع فراہم کریں تو وہ ملک کو درپیش مسائل کے مقامی اور مؤثر حل تلاش کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے فروغ سے نئی ٹیکنالوجی، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔ تعلیم میں سرمایہ کاری کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے معاشرے میں مساوات کے مواقع بڑھتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس طرح تعلیم معاشرتی محرومیوں کو کم کرنے اور ایک زیادہ متوازن معاشرہ تشکیل دینے میں مدد دیتی ہے۔
والدین اور معاشرے کا کردار بھی اس حوالے سے اہم ہے۔ بچوں کو صرف اسکول بھیج دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا، کتاب پڑھنے کی عادت پیدا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح نجی شعبہ اور فلاحی ادارے بھی تعلیمی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم پر خرچ صرف آج کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا تعلیم یافتہ بچہ کل کا ماہر، محقق، استاد، کاروباری شخص یا ذمہ دار شہری بن سکتا ہے۔ اس لیے تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل ملک کے مستقبل پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم ایک مضبوط، خوشحال اور خودمختار ملک کی تعمیر چاہتے ہیں تو تعلیم کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ہوگا۔ اسکول سے یونیورسٹی تک تعلیمی نظام کو بہتر بنانا، اساتذہ کی قدر و منزلت بڑھانا، تحقیق کو فروغ دینا اور ہر بچے کے لیے معیاری تعلیم کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔قوموں کی ترقی کا راستہ صرف بلند عمارتوں اور بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ باشعور، تعلیم یافتہ اور ہنرمند انسانوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لیے تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل ملک کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

