بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت — اور تحریک آزادی جموں کشمیر


تحریر:- سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ
مرکزی وائس چیئرمین (اول) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ
دھرتی ماں ریاست جموں و کشمیر کے عظیم انقلابی رہنما سردار رشید حسرت جنہیں کشمیری قوم پرست حلقے “بابائے خودمختاری” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، 4 اپریل 1942ء کو ریاست جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ، راولاکوٹ کے علاقے مارگلہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سردار الطاف حسین 1947ء میں تقسیمِ جموں کشمیر کے دوران بھارتی زیر انتظام پونچھ سینٹرل جیل میں سیاسی قیدی کی حیثیت سے اپنے آٹھ ساتھیوں سمیت دورانِ اسیری شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت سردار رشید حسرت کی عمر صرف پانچ برس تھی۔ ان کی والدہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو تحریکِ حریت کے سفر کے لیے وقف کردیا۔ یہی نظریاتی سفر چار نسلوں تک جاری ھےسردار رشید حسرت کےفرزند یاسر حسرت اور اور حسرت صاحب کے پوتوں اور خاندان کی نئی نسل تک منتقل ہوا، جو آج بھی قومی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔

سردار رشید حسرت نے ابتدائی تعلیم راولاکوٹ سے حاصل کی اور زمانۂ طالب علمی ہی میں تحریکِ آزادی کشمیر سے وابستہ ہوگئے۔ 1960ء کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے جموں کشمیر مزدور کسان پارٹی (JKMKP) کی بنیاد رکھی، جو ریاست جموں و کشمیر کی پہلی ترقی پسند سیاسی جماعت تصور کی جاتی ہے، اور وہ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔بعد ازاں 1965ء میں انہوں نے جموں کشمیر محازراے شماری میں شمولیت اختیار کی۔ 13 اگست 1965ء کو جب مقبول بٹ نے نیشنل لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی تو سردار رشید حسرت بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ 1969ء میں جب مقبول بٹ محاذِ رائے شماری کے صدر منتخب ہوئے تو سردار رشید حسرت محاذ کے لیبر بورڈ کے چیئرمین اور چیف آرگنائزر منتخب ہوئے۔1978 میں میرپور کنونشن کے دوران جموں کشمیر محاذِ رائے شماری کی جنرل کونسل نے 18 اور 19 دسمبر کو انہیں تنظیم کا صدر منتخب کیا۔ وہ مقبول بٹ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور امان اللہ خان،عبدالخالق انصاری، ڈاکٹر فاروق حیدر، غلام محمد میر، میر قیوم، نسیم لون، ہاشم قریشی اور دیگر قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ مل کر کشمیری قوم پرستی، وحدت اور آزادی کے نظریے کو فروغ دیتے رہے۔

سردار رشید حسرت نے پونچھ کے نوجوانوں میں قومی شعور بیدار کرنے کے لیے “ینگ کشمیر فٹبال کلب” قائم کیا اور اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا یقین تھا کہ نوجوان نسل ہی قومی آزادی کی جدوجہد کی اصل طاقت ہے۔1984ء میں انہوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور نیشنل زون (آزاد جموں کشمیر و گلگت بلتستان) کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 1987ء میں وہ جے کے ایل ایف کے چیف آرگنائزر جبکہ 13 جولائی 1988ء کو شروع ہونے والی مسلح جدوجہد کے دوران پہلے سپریم کمانڈر منتخب ہوئے۔ اس وقت اشفاق مجید وانی چیف کمانڈر مقرر کیے گئے تھے۔یکم 2 ستمبر 1988ء کو مظفرآباد میں منعقدہ جے کے ایل ایف کے کنونشن میں سردار رشید حسرت مرکزی چیف آرگنائزر منتخب ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے کیے اور تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔ اسی دوران انہیں عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔سردار رشید حسرت ایک دلیر، دیانتدار، نظریاتی اور بے باک قوم پرست رہنما تھے۔ وہ ریاست جموں و کشمیر کے اتحاد، خودمختاری اور بھارت و پاکستان دونوں سے مکمل آزادی کے حامی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے حقِ آزادی اور قومی وقار کے لیے وقف کیے رکھی۔

11 فروری 1992ء کو انہوں نے سیز فائر لائن عبور کرنے کی تحریک کی قیادت کا اعلان کیا، جس پر انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔ وہ متعدد مرتبہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے قید و بند کا سامنا کرتے رہے۔12 مئی 1992ء کو راولاکوٹ واپسی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات پر ریاست جموں و کشمیر بھر کے سیاسی، سماجی، طلبہ اور قوم پرست حلقوں نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔سردار رشید حسرت کی جدوجہد، قربانیاں، سیاسی بصیرت اور مادرِ وطن جموں و کشمیر سے محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کی چوتھی نسل بھی آج ریاست جموں و کشمیر کی قومی آزادی، وحدت اور خودمختاری کے لیے جدوجہد سے وابستہ ہے۔حسرت صاحب سے نظریاتی اور فکری تعلق زمانۂ طالب علمی 1981ء سے شروع ہوا تھا، جو ان کی زندگی کے آخری سانس تک نہ صرف قائم رہا بلکہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے دھرتی پونچھ اور ریاست کے دیگر خطوں میں آزادی، عزت، وقار اور غیرت کی جو بنیادیں رکھیں، وہ آج پوری ریاست جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں کشمیریوں کی شناخت بن چکی ہیں۔ریاست جموں و کشمیر کی قومی وقار، آزادی، وحدت اور خودمختاری کے لیے سردار رشید حسرت نے جموں کشمیر محازراے شماری جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے فارمز پر اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نظریاتی اور مزاحمتی محاذ پر ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

انہوں نے آزاد جموں کشمیر میں نظریاتی مزاحمت کی علمبردار طلبہ تنظیموں جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جموں کشمیر اسٹوڈنٹس لبریشن کے نوجوانوں کے لیے ڈھال کا کردار ادا کیا۔ وہ آزاد جموں کشمیر کے عوامی حقوق اور سماجی مسائل کے حل کے لیے مسلسل سرگرم رہے اور اپنی دھرتی کے لوگوں کے دلوں میں وقار اور احترام کی علامت سمجھے جاتے تھے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی سیاسی، سماجی اور قومی کردار کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت اور خراجِ تحسین ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ان کی 34 ویں برسی کے موقع پر ہم ان کی تحریکی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کی قومی آزادی، وحدت، خودمختاری اور خوشحالی کے لیے جدوجہد آخری سانس تک جاری رہے گی۔
حسرت تیری خدمات کو بھلایا نہ جائے گا
تیری جستجو خیالات کو مٹایا نہ جائےگا