اسلام آباد (اے ایف بی)جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے مرکزی دفتر میں جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان کی زیر صدارت مرکزی مشاورتی اجلاس منعقدہوا جس میں آزاد کشمیرکی حالیہ صورت حال کے حوالے سے قرارداد منطور کی گئی ہے جس میں لکھا گیاہے کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے جو پورے ملک کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے، احتجاج عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے،جلد بازی میں تمام پُرامن ذرائع ترک کر کے طاقت کا استعمال غیر دانشمندانہ اور غیر ضروری اقدام ہے،راولاکوٹ میں عوام اور سیکورٹی فورسز میں تصادم، مسلح اقدامات، آنسو گیس، فائرنگ، حساس اداروں کا گھیراؤ اور انسانی جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے باعثِ تشویش اور ناقابلِ قبول ہے۔ اکہ تحریکِ آزادی کشمیر اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت کے حصول اور پاکستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھنے والا خطہ کشمیر نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کا بیس کیمپ ہے بلکہ بھارتی ظلم و زیادتی کے خلاف مزاحمت کے لیے رگِ جاں کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ریاست جموں و کشمیر کی صورتِ حال کو معمول پر لانا حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔
حکمران، سیکورٹی ادارے اور پالیسی ساز اس حقیقت کا ادراک کریں کہ کشمیریوں کی توہین، تضحیک اور انہیں بھکاری سمجھنے سے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ عام آدمی میں تحفظ عزت نفس کے لیے جذبات میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں موجود کشمیری زرمبادلہ کی فراہمی اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے عالمی میدان میں طاقتور آواز ہیں۔یہ امر بھی تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے دریاو ں کی گزرگاہ بھی خطہ کشمیر ہے جبکہ بھارت یکطرفہ بنیادوں پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ تنازعہ? کشمیر کی حیثیت کو بھارتی آئین سے نکال کر غاصبانہ قبضے کو ناجائز بنیادوں پر پختہ کرنا چاہتا ہے۔ ایسی کیفیت میں آزاد جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے اور شدتِ جذبات کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال خطرناک اور قومی سلامتی کے لیے مہلک ہے۔ریاست جموں و کشمیر کی صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے:آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور سیاسی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ ان کی مفاد پرستانہ، بے مقصد سیاسی مشق اور اقتدار کے لیے آلہ کاری عوام میں مایوسی اور ردِعمل کا باعث بنی ہے۔ اب یہ قیادت جرات مندانہ سیاسی، جمہوری اور پُرامن مصالحانہ کردار ادا کرے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو احتجاج کا حق حاصل ہے، احتجاج کو پُرامن رکھنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ بھی تحریک آزادی کشمیر کے تقاضوں اور آئین کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی جائے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوام کے تاریخی احتجاج کو پُرتشدد بننے سے محفوظ کرے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو ترجیح دے۔راولاکوٹ سانحے کی عدالتی تفتیش کے ذریعے تحقیق کرائی جائے، تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کے اصل ذمہ داران سامنے لا کر قرارِ واقعی سزا دی جائے۔آزاد کشمیر حکومت، پولیس، انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز عوام کے احتجاج کو برداشت کریں اور جائز عوامی مطالبات کو تسلیم کریں اور ان پر عمل درآمد کا طریقہ? کار وضع کریں۔جموں و کشمیر کے عوام نے آزادی کے حصول کے لیے لاکھوں انسانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ بھارتی مظالم کے خلاف ان کی قربانیاں لازوال ہیں۔ آج بھی ہزاروں لوگ جیلوں میں گرفتار ہیں اور ہزاروں ظلم کا شکار ہیں۔ کشمیری مل کر بھارت کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔وزیرِ اعظم پاکستان، حکومتِ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور سیاسی قیادت مل کر حالیہ تنازعے کو حل کریں، یہ ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کا بروقت ہونا عوام کا حق ہے۔ انتخابات کا التوا مزید خرابیوں کو جنم دے گا۔ انتخابات ہر صورت شیڈول کے مطابق کرائے جائیں کیونکہ یہ خطہ کسی بھی بدامنی اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔






