راولپنڈی(اے ایف بی) اڈیالہ جیل کے 14 حوالاتیوں کے عدالت میں پیشی کے بعد فرار ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا، جبکہ زیر حراست پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور کال ریکارڈ بھی چھان بین شروع ہوگئی۔پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کہوٹہ کچہری میں پیشی کے دوران فرار ہونے والے حوالاتیوں کو ملاقاتوں کے بعد دوبارہ ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں یا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدی وین پر سرکاری اسلحہ کے ساتھ تعینات اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ خطرناک حوالاتیوں کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق طے شدہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب راؤ عبدالکریم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی تھی، اس سلسلے میں ایس پی ہیڈکوارٹرز مدثر اقبال کو عہدے سے ہٹا کر لاہور رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز امتیاز احمد کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔آئی جی پنجاب نے آر پی او راولپنڈی ریجن بابر سرفراز سے بھی واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔






