واشنگٹن ( اے ایف بی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ نہ ماننے پر ایک مرتبہ پھر بمباری کی دھمکی دے دی ۔ ایران نے اگر شرائط نہ مانی تو مزید شدت سے حملے شروع کردیں گے۔ ابھی ایران سے براہ راست بات چیت سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تہران نے شرائط مان لیں تو آبنائے ہرمز کو ایران سمیت سب کیلئے کھول دیں گے۔صحافی نیویارک پوسٹ نے سوال کیا کہ کیا ہم امریکا ایران مذاکرات سے متعلق دوبارہ پاکستان جائیں گے؟صدر ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان جانے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ سوچنا قبل ازوقت ہے کہ امریکا ایران دوبارہ براہ راست مذاکرات کریں گے۔ایران نے اگر شرائط تسلیم کیں تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہوجائے گا۔
اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور طے شدہ تجاویز کو قبول کرنے میں ناکامی دکھائی، تو ایران پر امریکی بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور اعلیٰ سطح پر دوبارہ شروع کردی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کو ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کی قبولیت سے مشروط کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران ان تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو طے پا چکی ہیں، تو امریکہ اپنی فوجی مہم ایپک فیوری کو ختم کر دے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی صورت میں انتہائی موثر بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا، ایران کا ان شرائط پر راضی ہونا شاید ایک “بڑا مفروضہ” ہے، تاہم اگر ایران تجاویز کو مسترد کرتا ہے، اگر وہ متفق نہیں ہوتے تو بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند سطح اور شدت کے ساتھ ہوگی۔واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مختصر مدتی امن معاہدے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا، ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کا یہ بیان بات چیت کے ذریعے دباؤ کی ایک مثال ہے، جہاں وہ ایران کو میز پر لانے کے لیے براہِ راست حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں۔

