کشمیر گلگت بلتستان

مقبوضہ کشمیر میں خاموشی ‘نارمل حالات’ نہیں بلکہ ‘خوف’ کی علامت ہے: محبوبہ مفتی

سرینگر(اے ایف بی) مقبوضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی)کی صدر محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ بی جے پی حکومت علاقے میں سیاسی مذاکرات کے بجائے پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات پر انحصار کر رہی ہے اورکشمیری عوام کو بدستور شک، ہراسانی اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ80سال گزرنے کے باوجود جموں و کشمیر کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ بدستور شدید فوجی پہرے میں ہے۔محبوبہ مفتی نے ہریانہ سمیت بھارتی علاقوں میں کشمیریوں پر حملوں پر تشویش کااظہارکیا۔ انہوں نے پاسپورٹ پر پابندیوں، سابق عسکریت پسندوں کو پولیس کے سمن اور بار بار سکیورٹی چیکنگ پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے قابض انتظامیہ پر سیاسی رابطوں سے گریز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے بجائے تحقیقاتی اداروں، مسلح فورسز اور پابندیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے عوامی اجتماعات کے اطراف پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر بھی سوال اٹھایا۔ یہ عوام پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔اگست 2019 میں دفعہ 370کی منسوخی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے جموں و کشمیر کے عوام کو حاصل آئینی ضمانتوں اور سیاسی حقوق کو کمزور کر دیا۔ محبوبہ مفتی نے بھارت کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اور آزادی اظہار پر پابندیوں کو موجودہ صورتحال کی قبولیت نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے کہا بی جے پی اس خاموشی کو قبولیت سمجھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ لیکن یہ معمول کی حالت نہیں، بلکہ خوف ہے۔ انہوں نے خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جمہوری حقوق، آئینی اصولوں اور بامعنی سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights