آزاد کشمیر کی تحریک میں پاکستان مخالف عناصر ۔۔۔؟

از، ماجد افسر

کچھ شرپسند اور مفاد پرست عناصر آزاد کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی اس پرامن اور تاریخی تحریک کو دانستہ طور پر پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک جھوٹا اور انتہائی بھونڈا پراپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوٹ جیمل سے تاؤ بٹ تک اور ڈڈیال سے حویلی تک آزاد کشمیر کے ایک ایک گاؤں ایک ایک محلے ایک ایک گھر اور ایک ایک فرد تک پھیلی یہ تحریک محروم اور مظلوم عوام کیلئے اُمیدِ سحر ہے۔ یہ تحریک صرف کشمیری عوام کی نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ان تمام پسے طبقہ کی آواز ہے جو ظلم ناانصافی مہنگائی بے روزگاری اور استحصالی نظام کے خلاف بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس تحریک کی سب سے بڑی طاقت اس کا پُرامن اور عوامی کردار ہے۔ اس کے ہر جلسے جلوس دھرنے اور احتجاج نے ثابت کیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے منظم اور مہذب انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ پوری تحریک کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے کسی پروگرام میں ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا۔ البتہ گزشتہ برس دھیرکوٹ چمیاٹی میں نامعلوم عناصر کی جانب سے انتشار پھیلایا گیا جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں


گزشتہ رات راولاکوٹ میں پرامن احتجاج پر فائرنگ کر کے ایک شہری کو جانبحق اور متعدد افراد کو زخمی کیا گیا۔ ایک اور منظم پراپیگنڈا یہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی تحریک یا عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنسی را کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس پر آزاد کشمیر کے عوام بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ اگر کسی کے پاس اس الزام کا ایک بھی قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہے تو اسے قوم کے سامنے لایا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔ لیکن ثبوت کے بغیر الزامات لگانا دراصل عوامی شعور اور عوامی قربانیوں کی توہین ہے۔ اسی طرح چند افراد کے انفرادی بیانات یا نعروں کو پوری تحریک کے کھاتے میں ڈالنا بھی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جب ایک ایسی تحریک میں لاکھوں لوگ شریک ہوں جب بھمبر سے نیلم تک ہر مکتبہ فکر اور ہر علاقے کے لوگ موجود ہوں تو ممکن ہے چند افراد کوئی متنازع بات کر دیں مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ چند افراد کے عمل کو پوری تحریک پر مسلط نہ کیا جائے۔ اگر یہی اصول اپنایا جائے تو پھر پاکستان کے مختلف شہروں حتیٰ کہ دارالحکومت اسلام آباد میں لگنے والے متنازع نعروں کی بنیاد پر پورے ملک کے عوام کو بھی غدار قرار دینا پڑے گا جو یقیناً ایک مضحکہ خیز بات ہے۔


خدارا منفی اور بے بنیاد پراپیگنڈے سے گریز کیجیے۔ آزاد کشمیر کے لوگ کسی سے نفرت نہیں کرتے وہ صرف اپنے بنیادی انسانی حقوق چاہتے ہیں۔ ستر برس گزر جانے کے باوجود آزاد کشمیر میں ایک بھی ایسا ہسپتال موجود نہیں ہے جہاں عوام کو مکمل طبی سہولیات میسر ہوں۔ ایک بھی ایسا تعلیمی ادارہ موجود نہیں ہے جہاں بچوں کو تعلیم دلا کر اطمینان ہو کہ اب انکا مستقبل محفوظ ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور عوام بنیادی ضروریات زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ تحریک اقتدار کے ایوانوں پر قبضے کی نہیں بلکہ عوام کے حق حکمرانی کی تحریک ہے۔ یہ چند افراد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی پکار ہے۔ پاکستان کے عام شہریوں پر بھی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی پراپیگنڈے یا سازش کا شکار ہوئے بغیر کشمیری عوام کی اس جمہوری جدوجہد کو سمجھیں اور اس کا ساتھ دیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کا مظلوم طبقہ ایک ہی دکھ اور ایک ہی طرح کی ناانصافی کا شکار ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مظلوم ایک دوسرے کی آواز بنیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ جب مظفرآباد اور اسلام آباد کا بالادست طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو سکتا ہے تو پھر مظفرآباد، سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کا محنت کش کسان مزدور طالب علم اور عام شہری کیوں ایک نہیں ہو سکتا۔۔۔؟ سچ یہ ہے کہ ظلم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور نہ ہی انصاف کی جدوجہد کسی جغرافیے کی محتاج ہوتی ہے۔ مزدور طبقے کے لیے سرحدیں معنی نہیں رکھتیں اس کا وطن وہ ساری دنیا ہے جہاں انسان اپنے حقوق اور بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہا ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ نفرت کے بیج بونے والوں کو مسترد کیا جائے اور حق انصاف جمہوریت اور عوامی اختیار کی اس جدوجہد کو مضبوط کیا جائے۔ جب عوام بیدار ہوتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے اور جب مظلوم متحد ہوتے ہیں تو بڑے سے بڑا جبر بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔