راولپنڈی (اے ایف بی)راولپنڈی ڈویژن میں میٹرک دوسرے سالانہ امتحان کے لیے 45 امتحانی مراکز تشکیل دیے گئےپروفیسر ڈاکٹر اقبال محمود، چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی بوٹی مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، نقل اور غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی پروفیسرڈاکٹر اقبال محمود، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے زیر اہتمام میٹرک دوسرے سالانہ امتحان 2026 کا آغاز 6 اکتوبر 2026 سے ہو رہا ہے، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امتحانات کے شفاف، منظم اور پرامن انعقاد کے لیے راولپنڈی ڈویژن میں مجموعی طور پر 45 امتحانی مراکز تشکیل دیے گئے ہیں۔چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر اقبال محمود کے مطابق 45 امتحانی مراکز میں 16 مراکز طلبہ، 13 مراکز طالبات، 15 مشترکہ امتحانی مراکز جبکہ ایک امتحانی مرکز جیل میں قائم کیا گیا ہے۔ تمام امتحانی مراکز پر ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ امتحانی عملے کو بھی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر اقبال محمود نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن ’’شفافیت جو نظر آئے‘‘، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایات اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے مطابق میٹرک دوسرے سالانہ امتحان 2026 کو مکمل شفافیت اور میرٹ کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام امتحانی مراکز کی کڑی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔ امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، نقل یا غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے مختلف چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر امتحانی مراکز کا دورہ کریں گی، امتحانی عمل کا جائزہ لیں گی اور اپنی رپورٹس بورڈ آفس کو ارسال کریں گی۔چیئرمین بورڈ نے مزید کہا کہ امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے بورڈ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے آن لائن مانیٹرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ بالخصوص ہارڈ اور گرے امتحانی مراکز کو آن لائن مانیٹر کیا جائے گا تاکہ امتحانی عمل کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔پروفیسر ڈاکٹر اقبال محمود نے واضح کیا کہ امتحانات میں نقل اور غیر قانونی ذرائع کے استعمال کی روک تھام کے لیے بوٹی مافیا کے خلاف شکنجہ کس دیا گیا ہے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو امتحانی نظام کی شفافیت متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امتحانی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
