کراچی

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

کراچی (اے ایف بی) سندھ حکومت نے میر رضا علی کے قتل کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے، ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں گے۔سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو افسران نامزد کرنے کے لیے خطوط ارسال کردیے ہیں۔دوسری جانب جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز ہے، سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ایف آئی اے کے سینئر افسر کی نامزدگی کی درخواست کی ہے، مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے۔

ادھر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے گی، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو 4 نکات پر تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جن میں نامزد افسران اور اہلکاروں کی صلاحیتوں اور کارکردگی کا جائزہ، مجموعی پولیسنگ کارکردگی کا تعین، جائے وقوع کو جلائے جانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات اور نتائج و سفارشات پر مشتمل رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرنا شامل ہے۔جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو خط بھی ارسال کردیا ہے جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات بھی آئی جی سندھ کو بھیج دی گئی ہیں۔محکمہ داخلہ سندھ نے جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات کی روشنی میں سیکرٹری صحت کو بھی خط ارسال کیا ہے۔کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے میر رضا علی کا ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے اور 2 سالہ تربیت کے لیے بھیجنے کی سفارش کی ہے۔محکمہ صحت نے ڈاکٹر اسامہ کو معطل کر دیا ہے۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights