مظفرآباد(اے ایف بی)وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی تحریک میں اب تک چھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان شہید ہو چکے ہیں، جموں کے سوا دو لاکھ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے مظالم کی داستانیں کبھی بھلائی نہیں جا سکتیں، کشمیر کی آزادی کی تحریک سو فیصد مسلمانوں کی تحریک تھی جو توہین قرآن کے واقعے سے شروع ہوئی، قبائل ہماری مدد کو آئے، ہندوستانی فوج کا جنرل خود اعتراف کرتا ہے کہ مہاراجہ پٹیالہ کی فوجیں پہلے سے کشمیر میں موجود تھیں، پاکستان کے 25 کروڑ عوام ہماری اصل قوت ہیں، ان کی غیر متزلزل حمایت ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہے، میں نے کبھی مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی بات کی نہ ہی کبھی اس کی حمایت کروں گا بلکہ جب تک زندہ ہوں ان کا تحفظ کروں گا، مگر افسوس ہے کہ جموں کی نمائندگی کرنے والے اسمبلی کے چھ ممبران میں سے گزشتہ اجلاس میں کسی ایک نے بھی شہدائے جموں کے حوالے سے قرارداد تو درکنار بات تک نہ کی، کشمیریوں نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں، تحریک وقتی طور پر کمزور محسوس ہو سکتی ہے مگر اسے زوال نہیں آ سکتا یہ رب کا قانون ہے، جموں میں مسلمانوں کو پاکستان لے جانے کے بہانے دھوکے سے بلا کر اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا کہ دریا کا رنگ سرخ ہو گیا، لٹے پٹے اور کسمپرسی کی حالت میں پاکستان پہنچنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے اہلیان پاکستان نے فراخدلانہ مدد کی،
40 ہزار مسلمان خواتین اغوا ہوئیں جن میں سے بیشتر کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا، چوہدری غلام عباس نے اپنی بیٹی واپس لینے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک قوم کی باقی بیٹیاں واپس نہیں آ جاتیں میں اپنی اولاد کو بھی واپس نہیں لوں گا، کئی مسلمانوں نے اپنی اولادوں کو عزت کی خاطر ذبح کر دیا، جموں کے لوگوں کو اپنا سر فخر سے بلند کرنا چاہیے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، شہداء کی اولادوں کو کسی دن اکٹھا کریں گے، جموں میں قتل عام کے ذریعے مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بدلا گیا، مہاجرین جو آزاد کشمیر میں آباد ہیں یہ ان کا اپنا وطن ہے، شیخ عبداللہ کو جب ہتھکڑی لگی تو اسے خیال آیا کہ قائد اعظم نے ٹھیک کہا تھا کہ عبداللہ میں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے کانگریس پر اعتبار نہ کرنا، ان شاء اللہ وہ دن جلد آئے گا جب کشمیری اپنی منزل حاصل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہدائے جموں کے حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام دفتر حریت کانفرنس مظفر آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
