کشمیر گلگت بلتستان

کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت پھر مسترد

جموں (اے ایف بی) مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے غیر قانونی طور پر نظر بند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست کو تین دہائیوں پرانے ایک کیس میں بدنامِ زمانہ قوانین کا سہارا لیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خصوصی جج این آئی اے کیسز جموں، پریم ساگر نے ضمانت کی درخواست کو خاریج کیا۔ یہ کیس 17 جولائی 1996ء کو ہلال احمد بیگ کی شہادت کے بعد نکالے گئے ایک جنازے کے جلوس سے متعلق ہے۔ این آئی اے کے پراسیکیوشن کا دعویٰ ہے کہ شبیر شاہ زیراہ کدل سے عیدگاہ سرینگر کی طرف جانے والے اس جلوس کی قیادت کرنے والے اہم افراد میں شامل تھے ، جہاں انہوں نے نعرے بازی کی اور تقاریر کیں۔ اس کیس میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات عائد کی گئی ہیں۔

شبیر شاہ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ محمد اسلم گونی نے ایڈوکیٹس تنویر احمد خان اور یاسین زرگر کی معاونت کے ساتھ عدالت میں دلائل دیے کہ یہ کیس تقریباً تین دہائی پرانے واقعے سے متعلق ہے اور شبیر شاہ ہمیشہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے لیے دستیاب رہے ہیں، اس لیے ان کی طویل قید و بند کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ دفاعی وکلاء نے ان کی عمر، سنگین طبی صورتحال، طویل عرصے سے جاری قید اور دیگر شریک ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کسی براہِ راست تشدد کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ دوسری طرف این آئی اے کے پبلک پراسیکیوٹرز اشونی ورما اور چندن کمار سنگھ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ شبیر شاہ کا مرکزی کردار تھا اور ان کی عوامی سطح پر اثر و رسوخ موجود ہے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سینئر حریت رہنما کی ضمانت کی اپیل کو مسترد کر دیا۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights