اسلام آباد (اے ایف بی ) آئندہ مالی سال 2026-27ء کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کے مجموعی حجم کا حامل وفاقی بجٹ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہائوسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف دیتے ہوئے ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرچارج کو ختم کر دیا ہے، کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ایف بی آر کے محصولات کاتخمینہ 15ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے، ہائوسنگ و زراعت سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہے ہیں وہ اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً نوازشریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی کیلئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے، یہ تبدیلی گزشتہ برس مئی میں بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دینے کے بعد ملی جس کے بعد پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات کرنے پر مجبور ہوا، یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ وارانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری فضائوں کا تحفظ کرنے والے فائیٹر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کیلئے پاکستان سے رابطے میں ہیں، ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ہماری سالمیت کیلئے اہم بلکہ ملک کی معاشی ترقی کیلئے بھی معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری تعزویراتی شراکت داری کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا ذکر کرنا چاہئیں گے، ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود تھا تاہم اس باضابطہ دفاعی معاہدے کی وجہ سے خادمین حرمین الشریفین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور برادرانہ رشتوں کو ایک نئی اور مستحکم بنیاد ملی ہے، یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری بھی ہے جسے نبھانے کے لیے ہم پورے عزم اور یقین کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات میں یہ اہم تبدیلی ہماری قیادت کی مرہون منت ہے جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ہماری پوری سفارتی اور عسکری قیادت یقینا مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے مہینوں میں خدائے بزرگ و برتر نے پاکستان کو ایک بے مثال کامیابی دلائی ہے۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ایماندار ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو بخوبی انجام دینے کے لئے انتہائی مخلص کوششیں کی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔ ہم اسلام آباد پیس ٹاک کے ذریعے امریکہ اور ایران کو سینتالیس سال کے بعد ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد ایک معاہدے کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کے قیام کو ممکن بنایا جاسکے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی پہلے کی طرح بحال کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور ایرانی صدور نے متعدد بار وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بطور ثالث اہم کردار کی تعریف کی ہے۔ یہ وہ فقید المثال کامیابی ہے جس سے قوموں کی برادری میں ہمارا احترام اور وقار بڑھا ہے اور ہماری کاوشوں کو ہر سطح اور فورم پر سراہا گیا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے جو فعال، متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے، اس میں ہمیں اپنے عظیم اور آزمودہ ہمسایہ ملک چین کی مکمل حمایت اور ہم آہنگی حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ اور مربوط امن کوششوں پر مکمل اتفاق رائے اور گہری ہم آہنگی موجود ہے۔ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ تعلق ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے جو محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دو اقوام کے دلوں اور تقدیر سے جڑا ہوا رشتہ ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین نے اس شراکت داری کونئی اور ٹھوس جہتیں عطا کی ہیں۔ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ ہر گھر کے بجٹ پر نیا اور غیر متوقع دبائو آیا۔ اگر حکومت اس جھٹکے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیس (128) ارب روپے کی عمومی سبسڈی کے ذریعے عوام کو براہ راست ریلیف دیا۔ پھر جلد ہی صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک مبنی برہدف سبسڈی کا نظام متعارف کرایا جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا اور ابھی بھی دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط مستحکم معیشت کے ساتھ امریکہ ایران جنگ کے بحران میں داخل ہوا۔ اس بحران میں جہاں خطے اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں ایندھن کی قلت، پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ میں گراوٹ دیکھی گئی اور ہم سے بہتر وسائل کے حامل بعض ملکوں کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس بھی جانا پڑا، وہاں پاکستان میں حکومت کے بروقت اور مدبرانہ فیصلوں اور مضبوط معاشی بفرز کی وجہ سے ایندھن کی کوئی قلت اور راشنگ نہ ہوئی، نہ پٹرول پمپس پر قطاریں لگیں، نہ کوئی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی ایکسچینج ریٹ متاثر ہوا بلکہ اس بحران کے دوران فچ ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اس سے قبل گزشتہ دو سال کے معاشی سفر کا مختصر احاطہ ضروری ہے، ہم نے یہ سفر ایک مشکل مقام سے شروع کیا۔ وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے انتھک محنت سے حالات پر قابو پایا ہے اور کئی اہم اور دور رس نتائج کی حامل معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں موجودہ مالی سال میں سیلاب نقصانات اور امریکہ ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد (3.7) تک پہنچ چکی ہے۔ ہماری بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ اس مالی سال میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد تک رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد کی شرح نمو سامنے آئی ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو پچھلے چار سالوں کی بلند ترین سطحوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک نیا سنگ میل ہے۔ جی ڈی پی کے حجم میں اضافے کی وجہ سے ہماری فی کس آمدن پچھلے سال کے 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی اور یہ شرح 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 11.5 فیصد پر آگئی ہے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے یہ تین سال قبل 4 ارب ڈالر سے کم تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں جو کہ تقریباً 3 مہینوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، پچھلے مالی سال کے 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ توقع ہے کہ سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو کہ ہماری تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 میں 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی صرف 3 سال میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں قریباً 2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقدامات کے نتائج ہمارے مالیاتی استحکام میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا جو موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک آجائے گا۔ دو سال قبل ہمیں پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر خسارہ درپیش تھا۔ موجودہ مالی سال میں ہم پرائمری بیلنس کو 1.6 فیصد کے سرپلس تک لے آئے ہیں۔ اس طرح پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے حساب سے 2.3 فیصد کی بہتری آئی ہے۔ پچھلے مالی سال میں افراط زر کی شرح گزشتہ سال کی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آگئی تھی۔ موجودہ سال کے دوران بھی ایران امریکہ جنگ کے باوجود بھی مہنگائی کی اوسط شرح تقریبا 7 فیصد رہنے کی توقع ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے تخمینہ 7.5 فیصد سے کم ہے۔ حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطی کی کشمکش ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بادل چھٹتے ہی مہنگائی کی شرح بھی کم ہو جائے گی۔ ہمارے معاشی اور مالیاتی استحکام کی وجہ سے ہماری معیشت پر عالمی ترقیاتی اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے اور دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، فچ اور ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے جس سے ہماری کریڈٹ ریٹنگ مستحکم ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ پاکستان 2022 کے بعد پہلی مرتبہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا، چار سال میں پاکستان نے پہلی مرتبہ 750 ملین ڈالر یورو بانڈ کا کامیابی سے اجراء کیا۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہمارے بانڈز کی طلب مستحکم رہی۔ اس کا تسلسل ہمیں پچھلے ماہ نظر آیا جب پاکستان نے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ملکی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا جس کی مانگ ہماری پیشکش سے 5 گنا زیادہ تھی ۔
یہ 2.5 فیصد مارک اپ پر جاری کیا گیا اس طرح پاکستان دنیا کے دوسرے بڑے معاشی نظام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس بہتری کے پیچھے پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کی بہتر کارکردگی ہے۔ کارپوریٹ شعبے نے جنوری، مارچ 2026 میں پچھلے سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ منافع حاصل کیا جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں یہ منافع 9 فیصد رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں پچھلے ایک سال میں 173000 نئے سرمایہ کاروں کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان نئے سرمایہ کاروں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس سال میں اب تک 11 آئی پی اوز کا اجرا ہو چکا ہے جو کہ پچھلی 2 دہائیوں میں ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ہے۔
دنیا کی ترکش پیٹرولیم، گلوگل رقمی ایڈ پورٹس، علی بابا گروپ، آرمکو سمیت بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے قائم کردہ ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد نئی کمپنیوں نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور 25 ہزار سے زائد ٹیک پروفیشنلز کو روزگار ملا ہے جو نئے اور موجودہ سرمایہ کاروں کا پاکستان میں کاروباری ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نجکاری کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اسی ایوان میں، اپنی بجٹ تقریر کے دوران میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم دہائیوں سے التوا کا شکار نجکاری کے ایجنڈا کو عملی شکل دیں گے۔ میں آج اس ایوان کو بتاتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ یہ وعدہ صرف وعدہ نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بن چکا ہے، ہم نے فرسٹ وومن بینک کی نجکاری سے آغاز کیا اور پھر 23 دسمبر 2025 کو پوری قوم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ایک شفاف اور براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیلامی کے ذریعے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو مجموعی طور پر 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کامیاب و تاریخی نجکاری وزیر اعظم کے اس ویژن کے عین مطابق ہے کہ نجی شعبہ ہی ملک کی پائیدار معاشی ترقی کا ضامن اور علم بردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد ہم ایک پانچ سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت کئی حکومتی اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جائے گا اس میں جینکوز، ڈسکوز، بینک، انشورنس کمپنیاں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ اس سلسلے میں تین ڈسکوز کے پہلے بیچ کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے بتایا کہ یہ معاشی استحکام کی بنیاد ہے، ایک فعال، متحرک اور شفاف ٹیکس انتظامیہ کسی بھی ریاست کی معاشی خود مختاری کی ضمانت ہے۔ ٹیکس کی وصولی کے بغیر کاروبار مملکت سر انجام نہیں پاسکتا اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایف بی آر میں جامع اور وسیع تر اصلاحات جاری و ساری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے اب تک کے نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ مالی سال 2022-23 میں ایف بی آر کی سالانہ ٹیکس وصولی 7200 ارب روپے تھی جو کہ اگلے تین سالوں میں دو گنا ہوگئی اور موجودہ مالی سال کے اختتام پر 13000 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، یہ اضافہ ایک ایسی کار کردگی ہے جس کی نظیر پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک سٹرکچرل تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کی قیادت خود وزیر اعظم محمد شہباز شریف کر رہے ہیں جو ہفتہ وار اجلاسوں کی خود صدارت کرتے ہیں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس تبدیلی کے ٹھوس ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ سب سے پہلے پروڈکشن مانیٹرنگ کا نظام ہے جس میں مرکزی ڈیش بورڈز، وڈیو اینالٹکس اور ٹمپرنگ الرٹس سے مدد لی جا رہی ہے۔ یہ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ ہو چکا ہے۔
صرف ان دو شعبوں سے سالانہ بنیاد پر تقریباً 61 ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور مشین لرننگ پر مبنی کمپلائنز رسک مینجمنٹ کا نظام 840 سے زائد ہائی رسک کیسز کی نشاندہی کر چکا ہے جن کا متوقع ٹیکس امپکٹ تقریباً 34 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرزکیلئے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس سے تعمیراتی شعبہ کی سرگرمیاں زورپکڑیں گی اور اس شعبہ میں نشونما ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آمدنی کی 4 سلیبز کے تنخواہ دار افراد کوریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ تنخواہ لیتے ہیں ان پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک کے درمیان آمدنی والے تنخواہ داروں کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے تک کی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کے علاوہ ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت کو بھی اس کا احساس تھا، گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح کو 10 فیصد سے 9 فیصد کیا گیا اور اب اس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ ہماری معیشت کی نمو کی ضمانت بننے والے زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے اس وقت برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طورپر 2 فیصد ٹیکس عائد ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے، اس ٹیکس کو ختم کرنے سے پاکستانیوں کو اپنی غیر ملکی مالیاتی حیثیت ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہو گی جس سے کمپلائنز ڈاکومنٹیشن اور اضافی ریونیو کا حصول ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس متعارف کرایا جا رہا ہے، ہم کئی دہائیوں سے پاکستان کے ریٹیلرز کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ چھوٹے دکاندار اپنے اردگرد کے لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں، یہ چھوٹے دکاندار کراچی سے چترال تک تجارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ اور ان کی اکثریت ابھی تک ٹیکس سے باہر ہے، ان کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد 20 کروڑ روپے تک یا اس سے کم کی سالانہ آمدن پر انہیں 25 ہزار روپے سالانہ جمع کرانا ہو گا، اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کرینگے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے اور اس میں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کی کیٹگری کو شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت نیشنل فیس لیس مراکز بنانے جا رہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ یہ مراکز صوابدیدی اختیارات جیسا کہ آڈٹ اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول ہونگے، ٹیکس دہندہ اور ٹیکس آفیسر کے مابین کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو گا، خودکار طریقہ کار کے تحت کسی آفیسر کو کیسز تفویض کئے جائیں گے۔ ایک علیحدہ آڈٹ یونٹ اس کا معائنہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خود کار میکنزم متعارف کرا رہے ہیں جس میں ٹیکس پیئر کے اندراج کردہ ڈیٹا اور ایف بی آر کے پاس مختلف ذرائع سے موجود ڈیٹا میں سقم کی نشاندہی کی جائے گی اس اقدام سے روایتی آڈٹ کے طریقہ کار میں ہونے والے اخراجات، تاخیر اور پریشانی کو ختم کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں پہلا قدم جعلسازی کیخلاف اٹھایا جا رہا ہے، پیٹرولیم بیسڈ سالونٹس جن میں سفید سپرٹ پیٹرولیم نفتھا اور منزل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے یہ اشیاء پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہے اس کی وجہ سے تیل کی مصنوعی فروخت کرنے والے دیانتدار تاجروں کو ایسے بددیانت تاجروں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرتے ہیں۔ دوسرا قدم معاشی بوجھ کی تقسیم سے متعلق ہے درآمد کی جانے والی کاروں اور 2 ہزار سی سی سے 3 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کی ایس یو ویز پر 66 فیصد ڈیوٹی عائد ہو گی۔ اس ٹیکس کا اطلاق بڑے انجن والی درآمدی سی بی یو پر بھی ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور ریلیف اقدام کے طور پر بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے، اس کا مقصد پاکستان اپنا معیشت کو درکار سرمایہ کاری اور شراکت داری کیلئے ایک پرکشش ملک بن سکے جو ہماری اقتصادی پالیسی کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ کسٹمز میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آٹو سیکٹر ہماری معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے اس شعبے کی ترقی کیلئے گزشتہ ایک دہائی میں مختلف ترقیاتی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے اس صنعت کو فروغ ملا اور ملک میں اسمبل او ای ایمز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو گئی ان میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچر شامل ہیں۔
اس وقت ایک نئی آٹو سیکٹر پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائیں گی تاہم ان میں الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں میں موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا اس سلسلے میں درآمد کئے جانے والے الیکٹر ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہماری وابستگی غیر متزلزل ہے، کینسر جیسے موذی امراض کی وجہ سے پاکستانی خاندانوں پر پڑنے والے شدید مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30ء کے تحت ایک نپی تلی اور موثر علاج کی سہولت متعارف کرا رہے ہیں جس کے تحت حکومت کینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کو گلوبل ویلیو چینجز میں شامل کرنے اور کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے گزشتہ سال ایک جامع قومی ٹیرف پالیسی کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا تھا۔
تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد خام مال اور متعلقہ اشیاء کی ایک بڑی تعداد پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں اعلان کردہ تجاویز خصوصاً ٹیکس ریلیف اقدامات، توانائی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر اقدامات معیشت کے کلیدی شعبوں جیسے زراعت، معدنیات و کان کنی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اے آئی اور ٹیک ڈریون صنعتوں کو فروغ دیں گے جس سے معاشی ترقی کا پہیہ چلے گا اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے بجٹ کی اہم ترجیح نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اپنے لئے روزگار پیدا کر سکیں اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے افراط زر کی شرح 8.2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا دو فیصد ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زائد ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کچھ قومی تقاضوں کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کیلئے ایک انتظام پر اتفاق کیا ہے جس کے ملکی سطح پر مثبت اثرات ہونگے، یہ انتظام تعاون پر مبنی کوآپریٹو فیڈرلزم کے جذبے کے تحت اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کئے بغیر طے پایا ہے۔ اس انتظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بدستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق رہے گا، مالی سال 2026-27ء کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15 ہزار 264 ارب روپے ہے تاہم سٹرٹیجک قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کیلئے کم از کم 13 ہزار 350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے۔ 15 ہزار 264 ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973ء کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹرٹیجک تقاضوں کی تکمیل کیلئے دستیاب ہو گی، یہ انتظام آئندہ مالی سال کیلئے نافذ العمل ہو گا اور مالی سال 2027-28 اور 2028-29ء میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جس میں 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے مختص ہونگے۔ سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے، وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے اس قومی فرض کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، پنشن کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 169 ارب روپے اور بجلی و دیگر شعبوں میں سبسڈی کیلئے ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب مختص کئے گئے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے ہیں۔
وزیراعظم اپنا گھر سکیم کیلئے 71 ارب روپے ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی توسیع کیلئے 88 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلیگ شپ انیشیٹو کا دائرہ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اسے عملی جامعہ پہنانے کیلئے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔آئندہ مالی سال میں بی آئی ایس پی کیلئے 8 سو 38 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو رواں سال سے 17 فیصد زائد ہے جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کیلئے ایک سو 46 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔






