اسلام آباد (اے ایف بی) وزیر مملکت برائے داخلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے نے سرکاری منصب کے تحت ملنے والے بلیو پاسپورٹ پر اٹلی کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ ذرائع کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ کے اہل خانہ کو سرکاری دوروں یا سہولت کے لیے آفیشل بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کا مقصد سفارتی وقار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، تاہم اب یہ الزام سامنے آیا ہے کہ اقبال آفریدی کے صاحبزادے نے اس پاسپورٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اٹلی میں داخلہ حاصل کیا اور پھر وہاں کے حکام کو سیاسی بنیادوں پر پناہ کی درخواست دے دی، جو کہ سرکاری پاسپورٹ کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمیں اٹلی نے بہت سخت پیغام بھیجا ہے جو میں بتا نہیں سکتا، ایسے اقدامات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، سرکاری پاسپورٹ پر جا کر اسائلم ڈکلیئر کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے، ایسے ہی معاملات کی وجہ سے دنیا کے دوسرے ممالک ہمارے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے سے کتراتے ہیں اور پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اس واقعے کے بعد پارلیمانی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ آفیشل پاسپورٹ کے حامل افراد کی سخت مانیٹرنگ کی جائے، جو لوگ اس سہولت کا غلط استعمال کریں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ایسے ارکانِ پارلیمنٹ سے جواب طلبی کی جائے، متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کی جائے کہ ایک سرکاری پاسپورٹ ہولڈر نے دوسرے ملک میں پناہ کیسے لی۔ معلوم ہوا ہے کہ تاحال اس معاملے پر ایم این اے اقبال آفریدی یا پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باقاعدہ مؤقف یا کسی بھی قسم کا تردیدی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی حلقوں میں اس معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے اور اسے قومی وقار کے خلاف اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔






