اسلام آباد (اے ایف بی) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ذرائع کے مطابق ان کے گزشتہ چند روز سے پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، جن کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔وزیر حکومت چوہدری علی شان سونی نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں، چوہدری علی شان سونی نے پارٹی سے علیحدگی کے ساتھ ساتھ وزارت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔سیاسی حلقوں میں دونوں رہنماؤں کے فیصلوں کو آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ان استعفوں کے بعد آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کو الیکشن سے قبل بڑا دھچکا لگا ہے ،ٹکٹوں پر اختلاف کی وجہ سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس اور وزیر حکومت چوہدری علی شان سونی پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی سے حلقہ وسطی، وادی نیلم، اور پاچھیوٹ سے الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ مانگے تھے لیکن پی پی قیادت کے انکار کی وجہ سے وہ نالاں ہوگئے، جس کی وجہ سے انہوں نے احتجاجاً استعفیٰٰ دے دیا۔سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کی سیاست کی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف سے کیا اور پارٹی کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے۔ آزاد کشمیر کے جنرل الیکشن 2021 کے بعد وہ سینئر وزیر اور بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔تاہم آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے توہینِ عدالت کے مقدمے میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونا پڑا۔بعد ازاں انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جہاں انہیں اہم سیاسی ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔حالیہ اختلافات کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ان کے آئندہ سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔






