آزاد کشمیر کے عام انتخابات آئینی مدت کے مطابق ہی ہوں گے مگر۔۔۔؟


تحریر از : فرحت علی میر


آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک غیرمعمولی مگر نہایت اہم آئینی و انتخابی پیش رفت منکشف ہوئی ہے۔ باوثوق اور مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق موجودہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ آئینی مدت کے اختتام کے پیش نظر عام انتخابات ماہ جولائی 2026 میں ہی مقررہ آئینی مدت کے مطابق منعقد کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک غیر معمولی اور بظاہر چونکا دینے والا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے لیے مختص بارہ نشستوں پر انتخابات کو وقتی طور پر معرضِ التواء میں رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ التواء کسی مستقل آئینی تبدیلی یا نشستوں کے خاتمے کے تناظر میں نہیں بلکہ محض موجودہ معروضی حالات، سیاسی حساسیت اور وقتی تقاضوں کے پیش نظر اختیار کیا جانے والا ایک عبوری اور انتظامی نوعیت کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان بارہ نشستوں پر انتخابات، آزاد کشمیر کے عمومی انتخابات کے انعقاد اور نتائج کے فوراً بعد کرائے جانے کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی اصولی طور پر کر لیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی انتخابی حکمتِ عملی کے پس منظر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جاری احتجاجی تحریک اور بالخصوص مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے لیے مختص بارہ نشستوں کے خاتمے یا ان کی موجودہ حیثیت کے خلاف اٹھائے جانے والے مطالبات کو اہم عنصر تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم باخبر حلقے واضح کرتے ہیں کہ ان بارہ نشستوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ آئینی، سیاسی اور قومی سطح پر کسی طور قابلِ قبول نہیں سمجھا جا رہا۔


حقیقت یہ ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے لیے مختص نمائندگی محض ایک انتخابی بندوبست نہیں بلکہ تنازعہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی، تاریخی اور قانونی حیثیت سے جڑا ایک بنیادی سیاسی و آئینی استحقاق ہے۔ ان نشستوں کا وجود اس امر کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے وہ باشندے جو 1947 اور اس کے بعد بھارتی مظالم، جبری ہجرت یا تنازعہ کے نتیجے میں پاکستان منتقل ہوئے، وہ ریاست کے سیاسی مستقبل اور نمائندہ اداروں سے آئینی طور پر منسلک رہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے لیے مختص بارہ نشستیں آزاد کشمیر کے انتخابی و آئینی ڈھانچے کا محض ایک سیاسی انتظام نہیں بلکہ مسئلہ جموں و کشمیر کے تسلیم شدہ متنازعہ تشخص، حقِ خودارادیت اور ریاست کے جغرافیائی و عوامی وحدت کے تصور سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان نشستوں کا مکمل خاتمہ نہ صرف سیاسی سطح پر حساس تصور کیا جاتا ہے بلکہ اسے ریاست جموں و کشمیر کے تاریخی مقدمے اور اس کے بین الاقوامی تناظر کے لیے بھی ایک غیر ضروری پیچیدگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں بارہ مہاجر نشستوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ نہ صرف تنازعہ کشمیر کی حساسیت اور اس کی بین الاقوامی حیثیت سے متصادم تصور کیا جا رہا ہے بلکہ سیاسی و آئینی حلقوں میں اسے عدم جوازیت کے باعث عملاً ناقابلِ عمل اور ناقابلِ قبول قرار دیا جا رہا ہے۔ گویا ان نشستوں کے مستقل خاتمے کی بحث اپنی جگہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ وقتی التواء کو ایک سیاسی و انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ غیر معمولی حکمتِ عملی دراصل ایک طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعتراضات اور احتجاجی بیانیے کی شدت میں وقتی کمی لانے اور دوسری جانب مورخہ 9 جون 2026 کی احتجاجی کال کو مذاکرات اور سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے غیر مؤثر بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ یہ خبر اگرچہ تاحال باضابطہ طور پر منظرِ عام پر نہیں لائی گئی، تاہم باوثوق اور مستند ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اس اہم پیش رفت کا انکشاف عوامی آگاہی اور سیاسی و آئینی تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ ایک طرف آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے اور دوسری جانب مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کے حوالہ سے جاری سیاسی تنازع اور احتجاجی دباؤ کو وقتی طور پر manage کرنے کی ایک حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔ تاہم یہ امر اپنی جگہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ بارہ مہاجر نشستوں کے مستقل خاتمے کی بحث نہ آئینی طور پر قابلِ قبول ہے اور نہ ہی مسئلہ جموں و کشمیر کی تاریخی، سیاسی اور بین الاقوامی حساسیت اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی التواء کے باوجود ان نشستوں پر انتخابات کا انعقاد ناگزیر اور یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔