بیروت (اے ایف بی):اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے’’ یو این پاپولیشن فنڈ ‘‘نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں خواتین اور لڑکیاں بڑھتے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے طبی سہولیات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق یو این پاپولیشن فنڈ کی لبنان میں نمائندہ آنندیتا فلپوس نے گزشتہ روز بیان میں ملک بھر میں شدید خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور کشیدگی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود لڑائی نہیں رکی،ملک بھر کے لوگ خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں شدید تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک بنیادی طبی مرکز اور خواتین و بچیوں کے لیے محفوظ مقام کو نقصان پہنچا جسے اقوام متحدہ کا ادارہ تعاون فراہم کر رہا تھا،یہ ان چند مراکز میں سے ایک تھا جو اب بھی فعال تھے اور اس علاقے میں جان بچانے کے لیے خدمات فراہم کر رہے تھے۔ ایک اور حملے میں ایک سرکاری ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا جہاں زچگی کی سہولیات موجود تھیں، جنوبی لبنان میں ایسے صرف تین ہسپتال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب زچگی کے وارڈ اور ہسپتال تباہ ہوتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان حاملہ خواتین کو ہوتا ہے جو جان بچانے والی سہولیات سے محروم ہو جاتی ہیں۔ ادارے کے مطابق لبنان میں بے گھر ہونے والوں میں تقریباً 13,500 حاملہ خواتین شامل ہیں۔ یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی شہر صور کے ایک ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا اور بیسیوں افراد زخمی ہوئے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس حملے میں کم از کم 86 افراد زخمی ہوئے جن میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ ہسپتال جنوبی لبنان میں کام کرنے والے چند فعال ہسپتالوں میں سے ایک تھا۔
حالیہ دنوں میں صور ضلع میں طبی سہولیات کو خاص طور پر شدید نقصان پہنچا ہے، 31 مئی کو ہرام ہسپتال بھی ایک اسرائیلی حملے میں متاثر ہوا۔ صور میں باقی رہ جانے والا تیسرا اور واحد ہسپتال لبنانی اطالوی ہسپتال اب بھی کام کر رہا ہے مگر زخمیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک طبی مراکز پر 190 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 128 طبی کارکن شہید اور 332 زخمی ہوئے، صرف ایک ہفتے میں 11 حملے ہوئے۔ ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس وقت تقریباً 130,000 افراد لڑائی سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں میں مقیم ہیں اور حالیہ انخلا کے احکامات کے بعد نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے، ادارہ ان پناہ گاہوں میں بیمار شہریوں کی نگرانی کر رہا ہے اور شدید اسہال کے کیسز میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اب تک 3,400 سے زائد افراد شہید اور تقریباً 10,400 زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔






