راولپنڈی (اے ایف بی) ٹرانسپورٹ حکام کی جانب سے راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے تمام اضلاع اور مختلف علاقوں کے لیے نئے اور حتمی کرائے نامے باقاعدہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام کی جانب سے نئے کرائے نامے باقاعدہ طور پر نافذ کر دیے گئے ہیں۔ اس نئے جاری کردہ سرکاری شیڈول کے مطابق مختلف روٹس کے کرایوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں تاکہ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازعے یا اضافی وصولی کا سدباب کیا جا سکے۔
اس نئے سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے لیے نیا کرایہ 850 روپے جبکہ وادی لیپہ کے لیے 1900 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوہالہ کے لیے کرایہ 600 روپے، ریشیاں کے لیے 1800 روپے اور وادی کٹن کے لیے سفر کا کرایہ 1400 روپے طے پایا ہے جس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی فہرست کے مطابق ہجیرہ کے لیے نیا کرایہ 1500 روپے، پلندری کے لیے 2300 روپے اور اٹھمقام کے لیے 1500 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سیاحوں کے لیے مشہور نیلم ویلی کا نیا کرایہ 1750 روپے جبکہ راولاکوٹ کے لیے 1060 روپے, باغ کے لیے 1050 روپے اور عباس پور کے لیے کرایہ 1360 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، پلندری کے دوسرے روٹ یا مخصوص کٹیگری کے لیے 800 روپے اور تراڑکھل کے لیے 1150 روپے کا کرایہ نامہ جاری ہوا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بارل کے لیے نیا کرایہ 1250 روپے، بلوچ کے لیے 1050 روپے، بنجوسہ کے لیے 1150 روپے اور تتہ پانی کے لیے 650 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرساوہ کے لیے 900 روپے، دریکوٹ کے لیے 850 روپے، ڈنہ کچیلی کے لیے 800 روپے، ٹنگی گلہ کے لیے 1050 روپے اور چھیچھن کے لیے سرکاری کرایہ 800 روپے طے کیا گیا ہے۔کوٹلی اور نکیال روٹس کے لیے اے سی اور نان اے سی گاڑیوں کے الگ کرائے:ٹرانسپورٹ حکام نے کوٹلی اور نکیال روٹس پر چلنے والی اے سی اور نان اے سی سروسز کے لیے الگ الگ کرائے مقرر کیے ہیں۔ شیڈول کے مطابق کوٹلی کے لیے کرایہ 1050 روپے جبکہ کوٹلی (نان اے سی) گاڑیوں کے لیے 850 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح نکیال (اے سی) سروس کے لیے نیا کرایہ 1250 روپے اور نکیال (نان اے سی) گاڑیوں کے لیے 1000 روپے کی حتمی منظوری دی گئی ہے۔ تمام روٹس پر چلنے والے ٹرانسپورٹرز کو ان سرکاری کرایوں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





