(تحریر : سینیٹر (ر) راجہ محمد ظفرالحق، (نشان امتیاز
قیامِ پاکستان سے قبل بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان ریاستِ جموں و کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل تھے۔ سری نگر میں اپنی رہائشگاہ پرانہوں نے 19 جولائی 1947ء کو کشمیر کے سرکردہ مسلم رہنماؤں کا ایک نمائندہ اجلاس سری نگر میں طلب کیا۔ اس تاریخی اجلاس میں ریاستِ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان سے الحاق کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس قرارداد کے الفاظ یہ تھے: “آج کا یہ نمائندہ اجلاس بالاتفاق اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت، دونوں اطراف کے عوام کے باہمی سماجی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے فطری تقاضوں، اور ریاست کی تقریباً 80 فیصد مسلم اکثریت کی خواہشات کے پیشِ نظر ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے۔” اس قرارداد کی منظوری کی خبر پورے کشمیر میں تیزی سے پھیل گئی۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے فوراً بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان اور ان کے رفقاء کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔ سردار محمد ابراہیم خان نے پہلے اجلاس کے تمام شرکاء کو بحفاظت اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ کیا، پھر جب انہیں اپنی گرفتاری کے احکامات کی اطلاع ملی تو وہ نہایت جرات اور حاضر دماغی سے ایک بس کے عقب میں لٹک کر سری نگر سے نکلے اور اپنے آبائی علاقے راولاکوٹ بخیریت پہنچ گئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد جب ریاستِ جموں و کشمیر کا تنازع شدت اختیار کر گیا تو بھارت یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔ اس موقع پر حکومتِ پاکستان نے بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان سے درخواست کی کہ وہ کشمیری عوام کا مقدمہ عالمی فورم پر پیش کریں۔ سردار محمد ابراہیم خان الحاقِ پاکستان کی قرارداد کی مصدقہ نقل اپنے ساتھ لے کر اقوامِ متحدہ پہنچے۔ انہوں نے نہایت مدلل، مؤثر اور تاریخی انداز میں کشمیری مسلمانوں کا مقدمہ پیش کیا، ریاست کی آئینی، جغرافیائی، تاریخی اور عوامی حیثیت واضح کی اور دنیا کو کشمیر کے اصل حقائق سے آگاہ کیا۔ ان کی مؤثر وکالت کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے یہ اصول تسلیم کیا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اپنی آزادانہ رائے سے کریں گے اور اس مقصد کے لیے غیر جانبدار ماحول میں استصوابِ رائے (Plebsicite) کرایا جائے۔ بعد ازاں اسی اصول کی بنیاد پر سلامتی کونسل نے مختلف اوقات میں مزید متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی توثیق کی گئی۔ ان قراردادوں کی اہمیت اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ ان میں سے متعدد قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئیں اور کسی بھی رکن ملک، حتیٰ کہ بھارت نے بھی ان کی منظوری کے وقت مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔
بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان جب وطن واپس آئے تو انہیں آزاد جموں و کشمیر کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ بعد ازاں وہ مزید تین مرتبہ بھی اس منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے پوری زندگی اس مؤقف کا بھرپور دفاع کیا کہ تقسیمِ ہند کے طے شدہ اصولوں، ریاست کی مسلم اکثریت کی خواہشات اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق جموں و کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام ہی کو طے کرنا ہے۔ آج بھی جب اقوامِ متحدہ کی قراردادوں یا مسئلۂ کشمیر کی بین الاقوامی تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کی بصیرت، جرأت، سیاسی فراست اور کامیاب سفارتی جدوجہد کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مرحوم بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کے ساتھ میرے دیرینہ باہمی اعتماد، محبت اور احترام پر مبنی تعلقات تھے، جنہیں میں اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔
9 نومبر 1960ء کو اس وقت کے صدر آزاد جموں و کشمیر جناب کے۔ ایچ۔ خورشید نے مظفرآباد میں شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے یومِ ولادت کے موقع پر ایک عظیم الشان یومِ اقبال کانفرنس منعقد کی، جس میں شرکت کے لیے مجھے بھی مدعو کیا گیا۔
اس موقع پر میرا قیام سرکاری ریسٹ ہاؤس میں تھا۔ بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان خصوصی طور پر مجھ سے ملاقات کے لیے وہاں تشریف لائے۔ ان کے ہمراہ ان کے صاحبزادے خالد ابراہیم خان بھی تھے، جن سے انہوں نے میرا تعارف کرایا۔ اس موقع پر سردار صاحب نے اپنے صاحبزادے سے مخاطب ہو کر فرمایا: “اگر تم نے سیاست کرنی ہے تو وہ اسی طرز پر کرنا جس طرز پر راجہ محمد ظفرالحق یہ الفاظ میرے لیے آج بھی ایک قابلِ فخر اعزاز کی حیثیت رکھتے صاحب نے ہمیشہ سیاست کی ہے” ہیں۔
بعد ازاں بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان نے کچھ عرصہ راولپنڈی میں بھی وکالت کی۔ اس دوران متعدد مواقع پر ہماری ملاقاتیں رہیں، جن کے نتیجے میں ہمارے درمیان باہمی اعتماد، احترام اور محبت کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔ ایک مرتبہ میں آزاد جموں و کشمیر کے ایک روزہ دورے پر گیا۔ جب میں کوہالہ پل پہنچا تو حیرت انگیز طور پر پل کے دوسری جانب ایک بہت بڑا مجمع میرے استقبال کے لیے موجود تھا، جس کی قیادت خود اس وقت کے صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا: آپ نے مجھے اپنے دورے کی اطلاع نہیں دی، لیکن جب مقامی پولیس کے ذریعے معلوم ہوا کہ آپ آزاد کشمیر تشریف لا رہے ہیں تو میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ راجہ محمد ظفرالحق صاحب آزاد کشمیر آئیں اور میں ان کے استقبال کے لیے کوہالہ پل پر موجود نہ ہوں۔”
اس پورے دورے کے دوران وہ میرے ہمراہ رہے۔ واپسی پر انہوں نے نہایت اصرار کے ساتھ مجھے بنجوسہ جھیل لے جانے کی خواہش ظاہر کی۔ ہم وہاں گئے، چائے نوش کی، دیر تک مختلف قومی، سیاسی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کرتے رہے اور جھیل کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوئے۔ واپسی پر وہ خود مجھے رخصت کرنے کے لیے دوبارہ کوہالہ پل تک آئے۔ نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ انہوں نے الوداع کہا اور میں ان سے اجازت لے کر اسلام آباد روانہ ہو گیا۔ یہ تمام یادیں آج بھی میرے دل و دماغ میں اسی تازگی کے ساتھ محفوظ ہیں اور بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کی عظیم شخصیت ، ان کے اخلاص، وضع داری اور پاکستان و کشمیر کے لیے بے مثال خدمات کی ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہیں۔ جب بھی کشمیر کے مسئلہ کا تذکرہ کیا جائے گا تو سردار محمد ابراھیم صاحب کا نام ایک محسن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔






