تحریر ؛ صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی
کائناتِ انسانیت کے اُفق پر چند ہی ایسی عبقری اور نابغہ روزگار شخصیات نمودار ہوئی ہیں جن کی فکری جلالت اور عملی صلابت نے وقت کے دھارے کا رخ موڑ دیا، ان مقتدر اور تاریخ ساز ہستیوں میں ایک انتہائی تابناک، جلیل القدر اور پر شکوہ نام امیر المؤمنین، خلیفہ راشد ثانی، سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپؓ نہ صرف اسلام کے دوسرے تاجدارِ خلافت ہیں، بلکہ عدل و انصاف کی وہ ابدی میزان ہیں جس پر رہتی دنیا تک حق اور باطل کی پرکھ کی جاتی رہے گی، آپؓ کی ذاتِ گرامی مرادِ مصطفیٰ، دعائے رسول اللہ، اور بے مثل شجاعت و تدبر کا ایک ایسا حسین اور معجز نما امتزاج ہے جس نے بزمِ جہاں کو تہذیبِ نو کے لافانی اصولوں سے روشناس کرایا۔
آپؓ کا شجرہ نسب نویں پشت میں سرورِ کائنات رسول اللہ کے شجرہ طیبہ سے جا ملتا ہے، قریش کے ممتاز، سفارتی اور معزز قبیلے بنو عدی سے تعلق رکھنے والے حضرت عمرؓ کے والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا، آپؓ کی کنیت ابو حفص ہے، جو آپؓ کی صاحبزادی اُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی نسبت سے بارگاہِ نبوی سے عطا ہوئی، تاریخ کے ماتھے پر آپؓ کا سب سے نمایاں اور سحر انگیز لقب فاروقِ اعظم ہے، جو رسول اللہ نے اس وقت عنایت فرمایا جب اذنِ الٰہی سے آپؓ کے ذریعے مکہ کی دھرتی پر علانیہ حق اور باطل کے درمیان واضح تفریق پیدا کر دی گئی۔
آپ کا قبولِ اسلام تاریخ عالم کا وہ انقلاب آفریں موڑ ہے جس نے نوخیز اسلامی ریاست کو ایک نئی جہت عطا کی، ہادیِ برحق نے اپنے جلیل القدر صحابی کے قلب میں چھپی ہوئی غیر معمولی صلاحیتوں اور فکری عظمت کو نبوت کی دور رس نگاہوں سے بھانپ لیا تھا، اسی لیے بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا بلند فرمایا تھا: ’’اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے عزت و قوت عطا فرما‘‘۔ یہ دعائے مستجاب اس شان سے رفعتِ قبولیت کو پہنچی کہ جو تلوار اسلام کی شمع کو بجھانے نکلی تھی، وہی کلمہ طیبہ کی سحر انگیز خوشبو سے معطر ہو کر اسلام کی سب سے مضبوط ڈھال بن گئی، آپؓ کے حلقہ بگوشِ اسلام ہوتے ہی مکہ کی خاموش وادیاں نعرہ تکبیر سے گونج اٹھیں اور بے کس مسلمانوں کو سرِ عام عبادت کی ہمت و جرات نصیب ہوئی۔
مستند مصادرِ حدیث اور فضائل کی کتب میں آپؓ کی شانِ رفیع کے تذکرے ایمان کو جلا بخشتے ہیں، امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت نقل کی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اے عمر! جس راستے پر تم چلتے ہو، شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے‘‘۔
ایک اور مقام پر حضورﷺ نے آپ ؓ کی فکری بصیرت کی گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم سے پہلے اُمتوں میں محدث (صاحبِ الہام) ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے‘‘(صحیح بخاری)، یہاں تک کہ آقا کریمﷺ نے آپ کے فہم اور علوِ مرتبت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے‘‘ (جامع ترمذی)۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں متعدد مقامات پر قرآنِ مجید کی آیات آپؓ کی صائب رائے کی تائید میں نازل ہوئیں، جنہیں علومِ اسلامیہ میں ’’موافقاتِ عمر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا دورِ خلافت (13 ہجری تا 24 ہجری) پونے گیارہ سال پر محیط ایک ایسا زریں اور بے مثال عہد ہے جس نے سیاستِ عالم اور جہانبانی کو نئے اصول دیے، اس مختصر مدت میں آپؓ کی عبقری قیادت کے نتیجے میں اسلامی فتوحات کا دائرہ 22لاکھ مربع میل تک پھیل گیا، سلطنت اسلامیہ کی حدود قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو پامال کرتی ہوئی شام، مصر، عراق، ایران اور بیت المقدس تک وسیع ہو گئیں، رستم و خاقان کی شوکتیں خاک میں مل گئیں، مگر ان بے پناہ فتوحات اور فتوحاتِ شام و مصر کے باوجود فاتحِ عالم کی زاہدانہ زندگی کا معیار وہی رہا جو ایک عام انسان کا ہوتا ہے۔
علامہ ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں نقل کرتے ہیں کہ جب قیصرِ روم کا سفیر مدینہ منورہ آیا، تو اس نے وقت کے شہنشاہ کو مسجدِ نبوی کے صحن میں ریت پر ننگے سر سوتے ہوئے دیکھا، وہ منظر دیکھ کر اس کے منہ سے بے اختیار یہ تاریخی جملہ نکلا: ’’اے عمرؓ! تم نے عدل کیا، اس لیے بے خوف ہو کر سو گئے، جبکہ ہمارے بادشاہ ظلم کرتے ہیں اور راتوں کو محلوں میں بھی پہرے داروں کے پہرے میں لرزتے ہیں‘‘۔
آپؓ کا نظامِ عدل تاریخ انسانیت کا سب سے روشن باب ہے، عدل فاروقی میں امیر و غریب اور شاہ و گدا کیلئے ایک ہی ترازو تھا، ایک بار مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے نے ایک قبطی (غیر مسلم) کو کوڑا مارا، تو سیدنا عمرؓ نے اس قبطی کو بلایا اور گورنر کے بیٹے کو سب کے سامنے کوڑے لگوائے اور گورنر سے مخاطب ہو کر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی انسانی حقوق کا منشور ہے: ’’تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟‘‘ (حسن المحاضرہ فی تاریخ مصر والقاہرہ)، آپ کا یہ خوفِ خدا بھی ضرب المثل ہے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ کے ہاں عمر سے اس کی بازپرس ہوگی۔ (تاریخ الطبری)
سیدنا عمر فاروقؓ نے جہاں سلطنت کو وسعت دی، وہاں اسے ایک بہترین انتظامی ڈھانچہ بھی عطا فرمایا، جنہیں تاریخ میں آپؓ کی ’’اوّلیات‘‘ (پہل کاریاں) کہا جاتا ہے، حافظ ابنِ حجر عسقلانی اور دیگر مورخین کے مطابق، آپؓ تاریخ عالم کے وہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے باقاعدہ ہجری کیلنڈر (اسلامی تقویم) کی بنیاد رکھی، مملکت کو باقاعدہ صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کر کے وہاں گورنرز اور قاضی مقرر کیے،بیت المال کا مستقل محکمہ قائم کیا اور عوام کیلئے وظائف مقرر کیے، راتوں کو رعایا کی احوال پرسی کیلئے گشت کا نظام متعارف کروایا، محکمہ پولیس، جیل خانہ جات، اور فوجی چھاؤنیوں کی بنیاد رکھی، مسافروں کیلئے سرائے تعمیر کرائیں اور پیمائشِ اراضی کا باقاعدہ نظام رائج کیا۔
ان تمام تر تنظیمی مصروفیات کے باوجود، آپؓ کا عشقِ رسولﷺ اور احترامِ اہل بیتِ اطہار بے مثل تھا، آپؓ کی زندگی کا ہر لمحہ اتباعِ سنت کا نمونہ تھا، آپؓ اہل بیتِ اطہار سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کیلئے آپؓ کا پیار کسی مشفق باپ سے کم نہ تھا، امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ جب مدینہ منورہ میں شدید قحط پڑا، تو سیدنا عمر فاروقؓ نے حضورﷺ کے عمِ محترم حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کا ہاتھ تھاما اور انہیں وسیلہ بنا کر بارگاہِ الٰہی میں بارانِ رحمت کی دعا فرمائی، جسے اللہ پاک نے شرفِ قبولیت بخشا اور جل تھل ایک کر دیا۔
آپؓ کی شہادت کا واقعہ بھی آپؓ کی عظمت اور بارگاہِ حق میں مقبولیت کی ابدی گواہی دیتا ہے، 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو جب آپؓ نمازِ فجر کیلئے مقتدیوں کی صفیں درست کروا کر تکبیرِ تحریمہ کہہ چکے تھے، تو ابو لؤلؤ فیروز مجوسی نامی ایک شقی القلب غلام نے آپؓ پر خنجر کے تین زہر آلود وار کیے، شدید زخمی حالت میں بھی آپؓ نے نماز کی تکمیل کا حکم دیا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے، آپؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں بھیجا تاکہ رسول اللہﷺ اور یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیق ؓکے پہلو میں مدفن کی اجازت طلب کی جا سکے، سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: ’’یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی، مگر آج میں عمرؓ کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں‘‘ (صحیح بخاری)۔
یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپؓ جامِ شہادت نوش فرما کر خالقِ حقیقی سے جا ملے، آپؓ کی نمازِ جنازہ جلیل القدر صحابی حضرت صہیب رومیؓ نے پڑھائی، سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی حیاتِ طیبہ امتِ مسلمہ کیلئے ایک ایسا روشن اور ابدی مینارہ نور ہے، جس کے نقوشِ قدم پر چل کر ہی ہم معاشرے میں عدل، رواداری اور حقیقی فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں، اللہ رب العزت ہمیں خلفائے راشدین کی مقدس تعلیمات اور اسوہ پر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔






