کالم

آبی وسائل کا تحفظ سب کی ذمہ داری

آبی وسائل کا تحفظ سب کی ذمہ داری
تحریر؛ خاورنوازراجہ
پانی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ انسانی زندگی، زراعت، صنعت، صحت اور ماحول سب کا انحصار پانی پر ہے۔ دنیا میں جہاں ایک طرف آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف پانی کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور پانی کے غیر ضروری استعمال نے آبی وسائل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پانی کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ دریائے سندھ اور اس سے منسلک نہری نظام ہماری زرعی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم پانی کا ضیاع، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال، دریاؤں اور نہروں میں گندگی پھینکنا اور صنعتی فضلے کا پانی میں شامل ہونا ہمارے آبی وسائل کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

گھروں میں بھی پانی کے ضیاع کی کئی صورتیں موجود ہیں۔ نل کھلا چھوڑ دینا، گاڑیوں اور صحن کو ضرورت سے زیادہ پانی سے دھونا، لیک ہونے والے نلکوں اور پائپوں کی بروقت مرمت نہ کرنا معمولی باتیں محسوس ہوتی ہیں، لیکن اجتماعی طور پر یہ عادات لاکھوں لیٹر پانی کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگر ہر فرد پانی کو ایک قیمتی امانت سمجھ کر استعمال کرے تو اس ضیاع کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

آبی وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کو بھی مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ نئے ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کرنے، نہری نظام کو بہتر بنانے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین پانی کے استعمال کو منظم کرنے اور صنعتی و شہری آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اسی طرح کسانوں میں جدید آبپاشی کے طریقوں، خصوصاً ڈرِپ اور اسپرنکلر نظام، کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی پانی کی بچت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طلبہ کو پانی کی اہمیت اور اس کے درست استعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے انہیں پانی بچانے کی عادت ڈالی جائے۔ ذرائع ابلاغ بھی عوام میں شعور اجاگر کر سکتے ہیں کہ پانی کا ایک ایک قطرہ مستقبل کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی صرف آج کی ضرورت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے آبی وسائل کی حفاظت نہ کی تو مستقبل میں پانی کی قلت ایک بڑا انسانی اور معاشی مسئلہ بن سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات میں نہیں بلکہ ہر فرد کے ذمہ دارانہ رویے میں بھی پوشیدہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پانی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے محفوظ کرنے کی کوشش کریں، آبی ذخائر کو آلودگی سے بچائیں اور دوسروں کو بھی پانی کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ حکومت، اداروں، کسانوں، صنعت کاروں اور عام شہریوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights