تحریر: خاورنوازراجہ
سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملے محض ایک ملک کی سلامتی کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے خطے کے امن، مسلم دنیا کے اتحاد اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا ایک اہم امتحان ہیں۔ سعودی عرب عالمِ اسلام کا ایک مرکزی ملک ہے، جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات واقع ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان ان مقامات سے گہری روحانی وابستگی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔کسی بھی ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین، شہری آبادی، ہوائی اڈوں یا بنیادی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جائے تو اس کا جواب صرف مذمتی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جو حملوں کی روک تھام اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد دیں۔
یمن کا بحران ایک پیچیدہ سیاسی، عسکری اور انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس تنازعے میں مختلف مقامی اور علاقائی قوتیں شامل رہی ہیں، جبکہ عام یمنی شہریوں نے طویل عرصے سے جنگ، غربت، بے گھری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کا سلسلہ کشیدگی کو مزید بڑھانے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ستمبر 2026ء میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں شہری اور اقتصادی اہداف پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں روکنے اور خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ اسی طرح 12 اکتوبر 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی نے ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور ان کے فوری و غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی سلامتی کے معاملے پر سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم، جس کے رکن ممالک کی تعداد 57 ہے، مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات اور مسائل کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ اس تنظیم کا کردار محض قراردادیں منظور کرنے یا مذمتی بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جب کسی رکن ملک کی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں تو او آئی سی کو سفارتی مشاورت، مشترکہ حکمتِ عملی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
ترکی مسلم دنیا کا ایک اہم ملک ہے، جس کے سعودی عرب، پاکستان اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ سفارتی و دفاعی روابط موجود ہیں۔ ترکی کی اہمیت اس حقیقت میں بھی ہے کہ وہ علاقائی سلامتی کے معاملات میں سیاسی رابطوں اور دفاعی تعاون، دونوں شعبوں میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ستمبر 2026ء میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں ملاقات کے دوران علاقائی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور مکالمے و سفارت کاری کو پائیدار حل کا راستہ قرار دیا۔ اس کے بعد اکتوبر میں چاروں ممالک نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔ترکی اس مشترکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مل کر ترکی دفاعی معلومات کے تبادلے، شہری تنصیبات کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ مشاورت کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ علاقائی سلامتی کا تعاون کسی ایسی کشیدگی میں تبدیل نہ ہو جو یمن اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کرے۔پاکستان اور ترکی کا مشترکہ کردار اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی مذاکرات، جنگ بندی اور انسانی امداد کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔
سعودی عرب پر حملوں کے معاملے میں صرف پاکستان اور ترکی کی طرف دیکھنا کافی نہیں۔ خلیجی ممالک، مصر، اردن، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دوسرے مسلم ممالک کو بھی اپنے سفارتی اثرورسوخ کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔خلیجی ممالک مشترکہ سلامتی اور فضائی دفاع کے معاملات میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ مصر اور اردن سفارتی رابطوں اور علاقائی مشاورت میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک او آئی سی کے وسیع تر پلیٹ فارم پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور انسانی امداد کی کوششوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ایران سمیت تنازعے سے متعلق تمام علاقائی فریقوں کے ساتھ رابطہ بھی اہم ہے۔ ایسے روابط کا مقصد الزامات کی تکرار نہیں، بلکہ کشیدگی میں کمی، حملوں کی روک تھام اور سیاسی تصفیے کے لیے قابلِ عمل اقدامات تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت مسلمانوں کے ایمان اور روحانی وابستگی کا بنیادی حصہ ہے۔ ان مقدس مقامات یا ان کے گردونواح کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس حساس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ضروری ہے کہ مصدقہ معلومات کی بنیاد پر بات کی جائے اور کسی غیر مصدقہ دعوے کو حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔حرمین شریفین کے احترام کا تقاضا صرف مذمتی بیانات نہیں، بلکہ ایسے مؤثر اقدامات بھی ہیں جو مقدس مقامات، زائرین، مقامی شہریوں اور تمام غیر فوجی آبادیوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ اسی طرح یمن کے عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی اسلامی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں شہری آبادی متاثر ہوتی ہے تو اس کا جائزہ بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے مطابق لیا جانا چاہیے۔ کسی بھی فریق کی طرف سے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا یا انہیں غیر ضروری خطرے میں ڈالنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کا مسئلہ امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، ذمہ داری اور سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کا راستہ محض سخت بیانات یا جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ مؤثر سفارت کاری، دفاعی تعاون، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور پائیدار امن کی سنجیدہ کوششوں سے نکلے گا۔او آئی سی کو اپنے اجتماعی وزن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو سفارتی قیادت اور ذمہ دارانہ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے، جبکہ ترکی اور دوسرے مسلم ممالک کو بھی اس کوشش میں شریک ہونا چاہیے۔امتِ مسلمہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام، شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی اجتماعی سلامتی کی مضبوط بنیاد ہے۔ سعودی عرب کا امن، یمن کے عوام کی بہتری اور مشرقِ وسطیٰ کا استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مقاصد ہیں۔ اگر مسلم دنیا ان اہداف کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کر لے تو نہ صرف موجودہ کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کی روک تھام کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔
