اسلام آباد ( اے ایف بی) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن کو انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو شروعات 2018ء کے عام انتخابات سے ہونی چاہیئے، اگر وہ حکومت جائز تھی تو پھر یہ بھی جائز ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے یہ ناجائز حکومت ہے، تو پھر 2018ء کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، کیا اُن میں جادوگری نہیں ہوئی تھی؟ کیا بکسے نہیں بھرے گئے تھے؟ کیا پٹے پہنا کر لوگوں کو اسلام آباد نہیں لایا گیا تھا؟ اگر وہ حکومت جائز تھی تو یہ بھی جائز حکومت ہے، اگر تحقیقات کرنی ہیں تو پہلے 2018ء کے الیکشن کی چھان بین ہوگی، پھر 2024ء پر بھی آ جائیں گے، بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی۔
خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان نے حالیہ ایران امریکہ مفاہمتی عمل میں ایک تاریخی اور مثبت کردار ادا کیا، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے بطور ثالث ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ پر دستخط کیے، پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں کی بدولت آج دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی ہو چکی ہے اور اگلے 60 روز تک تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے گی، جو آگے چل کر مستقل امن معاہدے کی شکل اختیار کرے گی۔انہوں نے فخر کا اظہار کیا کہ دنیا کے تمام بڑے عالمی جرائد اور اخبارات کے فرنٹ پیجز پر پاکستان کے اس مثبت کردار کو سراہا جا رہا ہے، ایرانی صدر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، یہ دورہ پاکستان کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام پر اہم مشاورت ہوگی، گزشتہ تین ماہ میں پاک ایران برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔






