سرینگر(اے ایف بی) جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آنا چاہیے جس طرح لداخ کی قیادت نے اپنے آئینی حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی۔ محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں خاص طور پر نیشنل کانفرنس کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے ہی پی اے جی ڈی کا تصور پیش کیا تھا جس کے بعدبھارتی حکومت کو آل پارٹیز میٹنگ بلانی پڑی۔انہوں نے کہااگر ہم سب ساتھ آئیں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لداخ کی قیادت نے مذہب اور سیاست سے بالاتر ہو کر متحد ہوکر جدوجہد کی، بھارتی حکومت کے ساتھ بات چیت کی اور اب وہ اپنے آئینی حقوق کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لوگوں کو امید تھی کہ منتخب حکومت ان کے وقار اور حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کرے گی، لیکن بدقسمتی سے 50 سے زیادہ ارکان اسمبلی رکھنے والی حکومت نئی دہلی کو بات چیت کے لیے آمادہ نہ کر سکی۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کچھ اعتماد سازی کے اقدامات شروع کرنے چاہیے اورشہری علاقوں سے فوج ہٹانے پر غور کرنا چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ترقی کبھی بھی سیاسی بات چیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہاجس طرح کرگل اور لہہ کی قیادت متحد ہوئی اور مل کر جدوجہد کی، ہم بھی اسی طرح کوشش کر سکتے ہیں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ متحد ہوں تاکہ کچھ حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت بات چیت کے بجائے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، پی ایس اے، ایجنسیز کے چھاپوں اور نگرانی کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں سے بات رہی ہے۔لہہ اپیکس باڈی (LAB) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے جمعہ کونئی دہلی میں بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد دعویٰ کیا کہ آئین کی دفعہ 371 کے تحت لداخ کو آئینی ضمانتیں دینے پراصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے اگست 2019 میں لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کیے جانے اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے بعد مکمل ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول کے تحت آئینی ضمانتوں کے مطالبے کے لیے مشترکہ تحریک چلائی تھی۔






