نیو یارک (اے ایف بی) امریکی ریاست نیویارک کی تاریخ کے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں پاکستانی نژاد معروف کاروباری شخصیت سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی اداروں نے بروکلین میں ایک مربوط نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گروپ میڈیکیڈ فنڈز میں 38 ملین ڈالر سے زائد کی جعلی ادائیگیوں اور کِک بیکس کے غیر قانونی دھندے میں ملوث رہا ہے، س کارروائی میں کمیونٹی کے بااثر افراد کو حراست میں لیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں نیویارک کی معروف پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت اور کمیونٹی بورڈ 13 کے سرگرم رکن پرویز صدیقی بھی شامل ہیں، جن کی گرفتاری نے کمیونٹی کو حیران کر دیا، پرویز صدیقی کے ساتھ اس نیٹ ورک سے جڑے 7 دیگر افراد کو بھی وفاقی الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے
، وفاقی عدالت میں دائر چارج شیٹ اور الزامات کے مطابق یہ مبینہ اسکیم دو مخصوص ایڈلٹ ڈے کیئر مراکز کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔بتایا گیا ہے کہ فراڈ کے لیے “اے پی این اے (APNA) ایڈلٹ ڈے کیئر” اور “آشیانہ سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر” کو استعمال کیا گیا، یہ مبینہ مالیاتی سکیم سال 2019ء سے شروع ہوئی اور دسمبر 2025ء تک بلا روک ٹوک چلائی جاتی رہی، بزرگ شہریوں کو ان مراکز میں باقاعدہ رجسٹر کیا جاتا تھا، لیکن وہ اکثر وہاں حاضر نہیں ہوتے تھے یا بالکل ہی نہیں جاتے تھے، تاہم ان کے ناموں پر میڈیکیڈ پروگرام سے باقاعدہ بھاری ادائیگیاں وصول کی جاتی رہیں
۔بتایا جارہا ہے کہ بعض بزرگ شہریوں کو مراکز کا حصہ بننے کے بدلے نقد رقم دی جاتی تھی، اور اگر وہ اپنے ساتھ دوسرے بزرگوں کو بھی لاتے، تو انہیں اضافی کمیشن فراہم کیا جاتا تھا، امریکی اداروں کا کہنا ہے کہ اس پورے گورکھ دھندے کو چھپانے کے لیے جعلی حاضری شیٹس تیار کی گئیں، سرکاری ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا اور حاصل ہونے والے فنڈز کو مختلف فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے منتقل کرکے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ذرائع نے کہا ہے کہ اس نیٹ ورک میں شامل بعض مارکیٹرز نے مخصوص تارکینِ وطن اور نسلی کمیونٹیز کے بزرگ افراد کو ہدف بنا رکھا تھا، جنہیں مختلف مالی فوائد کا لالچ دے کر اس پروگرام میں شامل کیا جاتا اور ان کے نام پر کروڑوں ڈالر کا بزنس چمکایا جاتا تھا، امریکی وفاقی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس میڈیکیڈ فراڈ کیس میں تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور کئی دیگر کڑیاں ملنے کا امکان ہے، گرفتار ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔






