کالم

ڈیجیٹل میڈیا اور خبر کی تصدیق

ڈیجیٹل میڈیا اور خبر کی تصدیق
تحریر ؛ خاورنوازراجہ
موجودہ دور کو ڈیجیٹل انقلاب کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی حصے میں پیش آنے والا واقعہ چند لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں خبروں کی ترسیل کو تیز، آسان اور وسیع بنایا ہے، وہیں غیر مصدقہ خبروں، افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا مسئلہ بھی پیدا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں خبر کی تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ماضی میں خبر لوگوں تک پہنچنے میں وقت لیتی تھی۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن خبر کو شائع یا نشر کرنے سے پہلے مختلف مراحل سے گزارتے تھے۔ آج سوشل میڈیا پر کوئی بھی شخص کسی واقعے کی تصویر، ویڈیو یا دعویٰ چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر وائرل ہونے والی خبر درست نہیں ہوتی۔ بعض اوقات پرانی تصویر کو نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، کسی بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے یا جھوٹی خبر کو سنسنی خیز انداز میں پھیلا دیا جاتا ہے۔

غلط خبر کے اثرات معمولی نہیں ہوتے۔ ایک جھوٹی اطلاع کسی فرد کی عزت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کسی ادارے کے بارے میں غلط تاثر پیدا کر سکتی ہے اور معاشرے میں خوف، بے چینی یا انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرنے والے ہر شخص پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے۔ خبر کی تصدیق کے لیے چند بنیادی اصول اپنانا ضروری ہیں۔ سب سے پہلے خبر کے اصل ماخذ کو دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی دعویٰ اہم نوعیت کا ہو تو اسے معتبر اخبارات، نیوز چینلز یا متعلقہ سرکاری اور ادارہ جاتی ذرائع سے بھی چیک کرنا چاہیے۔ صرف اس وجہ سے کہ کوئی خبر بہت زیادہ شیئر ہو رہی ہے، اسے سچ نہیں سمجھ لینا چاہیے۔ تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق بھی انتہائی اہم ہے۔ بعض اوقات کئی سال پرانی تصاویر کو موجودہ واقعے کی تصویر قرار دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے ملک یا شہر کی ویڈیو کو کسی نئے واقعے سے منسلک کر کے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے تصویر یا ویڈیو کے ساتھ دی گئی تاریخ، مقام اور دیگر معلومات کو ضرور جانچنا چاہیے۔

خبر کی سرخی بھی قاری کو گمراہ کر سکتی ہے۔ بعض اوقات لوگ پوری خبر پڑھے بغیر صرف سرخی دیکھ کر اسے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس عادت سے غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ضروری ہے کہ خبر کو مکمل پڑھا جائے، اس کے پس منظر کو سمجھا جائے اور پھر اس کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ عوام میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر معلومات قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ انہیں ذرائع کی جانچ، معلومات کے تقابل اور جعلی مواد کی شناخت کے بنیادی طریقوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تعلیم، آگاہی اور مثبت تبدیلی کا مؤثر وسیلہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر بغیر تصدیق کے ہر خبر کو آگے بڑھایا جائے تو یہی ذریعہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ آخرکار ہمیں یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ **خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا ہماری اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔** ایک لمحے کی احتیاط ہمیں جھوٹی خبر پھیلانے سے روک سکتی ہے، جبکہ ایک غیر ذمہ دارانہ کلک معاشرے میں بہت دور تک اثر ڈال سکتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں باشعور شہری وہی ہے جو صرف خبر حاصل نہیں کرتا بلکہ اس کی حقیقت جاننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

تبصرہ لکھیں

Verified by MonsterInsights