واشنگٹن ( اے ایف بی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اپنے پہلے تفصیلی ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ امریکہ اس وقت مذاکرات کر رہا ہے اور دیکھا جائے گا کہ معاملات آگے کیسے چلتے ہیں، اگر ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے تہران طویل مدت کے لیے جوہری شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آمادہ ہو جائے گا اور بہت جلد بڑے پیمانے پر اپنے ہتھیاروں کے معائنے کی منظوری دے گا، جب تک ایران امریکہ اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرتا رہے گا، دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا کوئی نیا تنازعہ پیدا نہیں ہوگا، اگر ایران اس امن معاہدے پر قائم نہ رہا، تو میں وہی کچھ کروں گا جو مجھے کرنا ہے ایرانی فوج کا ذکر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی بحریہ اور فضائیہ کی قیادت تقریباً ختم ہو چکی ہے، جبکہ ایران کے میزائل اور ڈرون اثاثے بھی 87 فیصد تک تباہ ہو چکے ہیں، اسی فوجی دباؤ کی وجہ سے ایران میزائل پروگرام کو محدود کرنے پر مجبور ہوا ہے، امریکی صدر نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز اس وقت تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہاں صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے اور جہازوں کی آمد و رفت بلا تعطل جاری ہے، اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے ایران کے موجودہ رویے کی تعریف کرتا ہوں، آبی گزرگاہ کے معاملے پر ایران اس وقت بہت اچھا کام کر رہا ہے، کشدیگ ی کے خاتمے کے بعد اب خطے میں امن قائم ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔گفتگو کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے اچانک استعفے پر بھی کھل کر بات کی، انہوں نے کہا کہ کیئر اسٹارمر اپنے ملک کے اندرونی مسائل پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہے، کیئر اسٹارمر کو بنیادی طور پر امیگریشن یعنی غیر قانونی تارکینِ وطن کے سنگین مسائل اور ان سے نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔






