از قلم: محمد عامر صدیقی
پاکستان اپنے وجود کے تقریباً 80 سال مکمل کر چکا ہے۔ اس طویل عرصے میں اس قوم نے اقتدار کے متعدد ادوار دیکھے؛ کبھی گورنر جنرل کا دور، کبھی صدارتی آمریت، کبھی جمہوری سفر، کبھی ‘نظریۂ ضرورت’ کی منطق، کبھی ‘ون یونٹ’ کا تجربہ تو کبھی سقوطِ ڈھاکہ کے دردناک اور تکلیف دہ لمحات۔ قوم نے جمہوریت کے لیے تگ و دو بھی کی، جزوی جمہوریت کے دن بھی دیکھے، اقتدار کی رسہ کشی کا شکار بھی ہوئی، آمریت کے چھائے سائے بھی سہے اور ‘ایشین ٹائیگر’ سے لے کر ‘نیا پاکستان’ جیسے دعوؤں اور طرزِ حکمرانی کو بھی برداشت کیا۔ان تمام تر نشیب و فراز کے باوجود اس قوم کو 1973ء کے متفقہ آئین نے ایک سہارا دیا اور عوامی حقوق کا تحفظ ممکن بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور جمہوریت ہی بہترین نظامِ حکومت ہے۔ لیکن آج بات محض حکومت تک محدود نہیں رہی بلکہ صوبوں تک پہنچ چکی ہے۔ عوام کے لیے اصل مسئلہ نظام کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ طرزِ حکمرانی ہے۔آج ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی مراعات میں سے ذرہ برابر قربانی دینے کو تیار نہیں، جبکہ پہلے سے پسی ہوئی عوام سے مزید قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ پٹرول، گیس اور بجلی سمیت تمام بنیادی سہولیات اب عام آدمی کے لیے بوجھ بن چکی ہیں۔ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر مفت سہولیات سے لطف اندوز ہونے والوں نے 200 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر ایسے ظالمانہ ٹیکسز عائد کر دیے ہیں کہ غریب انسان ایک پنکھا چلانے سے بھی خوفزدہ ہے۔
مہنگائی اور غربت سے عوام کی زندگی اجیرن بن چکی۔ تعلیم اور صحت کا حصول سفید پوش طبقے کے لیے ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا نہ تھمنے والا طوفان مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ کیا اس بے لگام مہنگائی پر قابو نہ پانا ظلم و ناانصافی نہیں؟ شاہانہ اور پرتعیش اندازِ حکمرانی کو ترک نہ کرنے والے حکمرانوں نے قوم کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور اس کا خمیازہ صرف اور صرف عوام ہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم برآمد کرنے کے بجائے درآمد کرنے پر کیوں مجبور ہے؟ یہ مسئلہ نظام کی ناکامی کا نہیں بلکہ اہلیت اور نیت کی کمی کا ہے۔ اگر اہل اور باصلاحیت لوگ اقتدار میں ہوں اور وہ کسان کو سستی بجلی، جدید ٹیکنالوجی، بروقت پانی اور تمام ضروری سہولیات فراہم کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا کسان گندم اور دیگر اجناس کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ نہ کرے۔ اس سے نہ صرف کسان کو معقول معاوضہ ملے گا بلکہ اضافی اجناس برآمد کر کے ملک کے لیے خطیر زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
یہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، جس کی بہترین مثال ہماری افواجِ پاکستان ہے۔ انہوں نے ملک کے دفاع، اپنی اہلیت اور صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے معرکۂ دفاعِ وطن میں دشمن کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ دفاعی محاذ پر ہماری مسلح افواج کا یہ شاندار کارنامہ اور پیشہ ورانہ مہارت دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہے۔ یہی جذبہ، اہلیت اور قابلیت تعلیم، داخلہ، دفاع، خزانہ اور دیگر تمام قومی اداروں میں بھی درکار ہے۔ ایٹمی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی اور قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال اس ملک کو صرف ایک بہترین اور شفاف طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ملک میں سستی بجلی کی پیداوار کے لیے بڑے آبی ذخائر (ڈیمز) کی تعمیر کا سست روی کا شکار ہونا ایک نہایت افسوسناک امر اور قومی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی غفلت کے باعث قوم آئی پی پیز (IPPs) سے مہنگی ترین بجلی خریدنے پر مجبور ہے، جو ایک کھلا ظلم ہے۔ اس جدید دور میں بھی اگر ہم مہنگے ذرائع سے بجلی خریدتے رہیں گے تو ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے؟ ہمارے پاس ہائیڈرل، کوئلہ، ونڈ اور ایٹمی توانائی کے بہترین ذرائع موجود ہیں، مگر ان سے صحیح معنوں میں استفادہ کیوں نہیں حاصل کیا جا رہا؟ قرضوں میں جکڑے ہونے کے باعث آج ہمارا قومی بجٹ بھی آئی ایم ایف (IMF) کی منشا کے مطابق تیار ہوتا ہے۔
یقیناً نظامِ حکومت میں اتنی خرابی نہیں جتنی ہمارے ہاں اہلیت اور قابلیت کے فقدان کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ہم قرضوں پر انحصار ختم کر کے اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں اور اپنے وسائل میں جینا سیکھیں، تبھی قوم واقعی اس نظام سے مستفید ہو سکے گی۔ہمارے پڑھے لکھے نوجوان ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں، جو مشکل حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈگری ہولڈر نوجوانوں کو مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں اور وہ ‘بائیکیا’ چلا کر اپنے گھر کا نظام چلانے پر مجبور ہیں۔ ہمیں اس پراسیس کو بدلنا ہوگا۔ ملازمتوں میں دوہری یا تیسری نوکری پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور وقت پر ریٹائرمنٹ کے بعد نئے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔اب بات حکومت سے نکل کر نئے صوبوں کے قیام تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن کیا مزید صوبوں کا قیام ان تمام مسائل کا آسان حل ہے؟ ہرگز نہیں! پہلے ہی بھاری بھرکم وزراء، مشیران اور حکومتی مشینری کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے قوم کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ مزید صوبے بنا کر یہ بوجھ مزید بڑھانا مسائل کا حل کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا ان نئے صوبوں میں یہی سیاسی جماعتیں (مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی یا دیگر) حکومت نہیں بنائیں گی؟ جب چہرے اور طرزِ فکر وہی رہے گی تو مسائل بھی جوں کے توں رہیں گے۔لہٰذا حل نئے صوبوں میں نہیں بلکہ موجودہ نظام کے نقائص کو دور کرنے اور طرزِ حکمرانی کو بدلنے میں ہے۔ ہمیں اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنے مسائل حل کرنے ہوں گے۔ ہر وہ سرکاری و سیاسی عہدیدار جو خدمت کے عوض تنخواہ کا حقدار ہے، اسے غیر ضروری مراعات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اگر سب سے کم آمدنی والا عام شہری اپنی محدود آمدن میں اپنے تمام اخراجات خود اٹھاتا ہے، تو بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے اپنے اخراجات خود کیوں نہیں اٹھا سکتے؟اصل تبدیلی اور نظام کی بہتری کا راستہ یہی ہے۔ ہمیں قوم کو مزید تقسیم سے بچا کر ایک پرچم تلے متحد رکھا جائے تو ہی ملک تعمیر و ترقی کے سفر پر گامزن ہوگا۔
سب سے پہلے پاکستان — پاکستان ہمیشہ زندہ باد!






