پولنگ اسٹیشن کا نظم و نسق بحفاظت بنانے کیلیے فوج اور رینجرز تعینات ہو گی چیف الیکشن کمشنر


اسلام آباد (اے ایف بی ) آزادجموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل کی زیر صدارت جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں اعلی سطح کا اجلاسں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی ، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان ،آزادجموں و کشمیر کے 33 حلقوں کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران اور مہاجرین کے 12 حلقوں کے ریٹرننگ آفیسران نے شرکت کی،اجلاس میں الیکشن کمشنر راجہ راشد محمود اور الیکشن کمشنر محترمہ نویدہ گیلانی، اسسٹنٹ الیکشن کمشنر راجہ ناصر ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر اطلاعات خواجہ عمران الحق اور نگران راجہ مختیار بھی شریک ہوئے ۔اجلاس میں آزاد جموں و کشمییر میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے انتظامات کے حوالے سے انتظامی اور قانونی امور پر غور کیا گیا ۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) غلام مصطفی مغل نے کہا کہ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلیے تمام تر ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے ۔آزادجموں و کشمیر و پاکستان کی عدلیہ پر فخر ہے ،عدلیہ ریاست کا چہرہ ہے ۔آزادجموں و کشمیر کے عوام کا سب سے زیادہ اعتماد عدلیہ پر ہے ۔2016 میں آزادکشمیر کے شفاف ترین انتخابات ہوئے کسی سیاسی جماعت نے ان انتخابات پر انگلی نہیں اٹھائی ،پاکستان کے نامور صحافیوں نے مجھے فون کر کے مبارکباد دی ۔کوڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرنا خواہ اس امیدوار کا تعلق جس مرضی سیاسی جماعت سے ہو ۔ آج کافی عرصے کے بعد آپ سے مخاطب ہونا اعزاز کی بات ہے ،آخری انتخابات کے انعقاد کے بعد آپ نے انتہائی جذباتی انداز میں مجھے الوداع کیا ،میں نے اپنی استعداد کے مطابق ہمیشہ آپ کی مشکلات کے خاتمے کیلیے کام کیا ہے ۔آزادکشمیر کے لوگوں کا سب سے زیادہ اعتماد عدلیہ پر ہے یہ کوئی پریس کانفرنس نہیں کرسکتے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے ۔یہ ہماری ریاست کا چہرہ ہیں اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں مجھے آپ پر فخر ہے کہ 2016 میں آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ کےشفاف ترین انتخابات ہوے پاکستان کے نامور صحافیوں نے مجھے مبارکباد دی اور کسی سیاسی پارٹی نے اس پر انگلی نہیں اٹھائی ۔ہر آفیسر کو ایماندار ہونا چاہیے فرض شناس ہونا چاہیے ۔آزادجموں و کشمیر میں عدلیہ کے خلاف کوئی شکایات نہیں ہے ۔الیکشن کے مرحلے میں قوم نے آپ پر پھر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔عوام نے انتخابات کو آزادانہ ،منصفانہ اور شفاف بنانے کیلیے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ،حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا سرکاری آفیسران کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہیے انہیں اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ کس نے حکومت میں آنا ہے کس نے جانا ہے ۔ہم نے کسی بھی برادری اور تفریق سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہے ۔پہلا مرحلا صاف اور شفاف ووٹر لسٹ کا تھا وہ ہو گیا دوسرا مرحلہ آپ کا ہے وہ ہے پولنگ سکیم کا شفاف ہونا اسکے لئے آپ اس کا اہتمام شفاف کریں ، انتظامیہ کے ساتھ کل ایک میٹنگ کی ہے ابھی ایک اور میٹنگ کرنی ہے ہم نے انہیں ابتدائی باتیں بتائی ہیں ،کوڈ آف کنڈکٹ آپ کو مل چکا ہے اس پر عملدرآمد کرانا آپ کی اولین ذمہ۔داری ہے اس پر آپ نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا خواہ امیدوار کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرنا ۔پرئذایڈنگ آفیسران کی تقرری بھی شفاف انداز میں کرنی ہے ۔معاشرے میں رہتے ہوے کمی کوتاہی ہو سکتی ہے لیکن ہم نے کوشش کرنی ہے کہ انتخابات کے عمل کو شفاف بنایا جائے ۔آج میڈیا کا دور ہے اس لئے الیکشن اور زیادہ مشکل ہے اسکو سنبھالنا بھی آپ کیلیے ایک چیلنج ہے اس سے نمٹنے کیلیے آپ کے پاس حکمت عملی ہونی چاہیے ۔ آپ پولنگ اسٹیشن کے رزلٹ کی حفاظت ہونی چاہیے ۔ہم۔اس سلسلے میں ٹریننگ بھی فراہم کریں گے ۔سپریم کورٹ آزادکشمیر نے ایک ججمنٹ دی ہے کہ انتخابی آفیسران کی تربیت ہونی چاہیے ۔اگر کسی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ یا ریٹرننگ آفیسران کے پاس عملے کی کمی ہے تو وہ اس عرصے کیلیے دو ڈی ای او اور ایک نائب قاصد بھرتی کر سکتا ہے جو میرٹ پر ہوں ۔بہت ساری شکایات مہاجرین کے حوالے سے آتی ہے الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن کا نظم و نسق بحفاظت بنانے کیلیے فوج اور رینجرز تعینات ہو گی


۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے کہا کہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ان حضرات سے خطاب کا موقع مل رہا ہے جو لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس وقت جبکہ ملک کے ادارے انحطاط کا شکار ہیں اور لوگوں کا ان پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے مگر دو ادارے ایسے ہیں جن پر لوگوں کا اعتماد ہے ایک دفاعی ادارے اور دوسرا عدلیہ ،جب بھی ملک میں کوئی مشکل کام پیش آتا ہے تو انہی دو اداروں سے رجوع کیا جاتا ہے کیونکہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں ہوں کیونکہ سب کا اتفاق ہے کہ یہ ایسا ادارہ ہے جو شفاف انتخابات کو منعقد کر سکتا ہے ،ایک جج کا کوڈ آف کنڈکٹ واضح ہے کہ وہ ایک مثالی کردار کا حامل ہو۔ڈسٹرکٹ۔ریٹرننگ آفیسر راجہ فیصل نے اس موقع پر کہا کہ آج کا اجلاس اس بات کا اظہار ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی زمہ داری ادا کرنے کیلیے تیار ہے ،چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں شفاف الیکشن کیلیے ہم پھر پوری طرح تیار ہیں جس طرح ماضی میں آپ نے ہم پر اعتماد کیا ہم انشاءاللہ آپ کے اعتماد پر پورے اتریں گے ۔اج کے اس اجلاس میں پاکستان کے آفیسران ریٹرننگ آفیسران کا شکریہ ادا کرتا ہوں انشاءاللہ ہم ملکر کام کریں گے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے دوران ہم نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران اور ریٹرننگ آفیسران کو سیکیورٹی فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامات کیے جائیں۔اجلاس کی نظامت کے فرائض سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان نے انجام دئیے.اس موقع پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران اور ریٹرننگ آفیسران نے ضروری قانونی اور انتظامی امور اور الیکشن کو آزادانہ ،منصفانہ اور شفاف انتخابات کیلیے اپنی اپنی تجاویز بھی دیں